اسوقت ہماری
اردو نشریات مسلسل
اوپر کے لینکس سے جاری ہیں
More latest newser
Klikk
abovemention Link
Great
Kharian
Dairy
لیلی ناروے
ڈیلی بیس ڈاہری
کھاریاں ڈنگہ
کوٹلہ عرب علی خان لالہ موسے سراءے عالمگیر کے علاقون پر مشتمل ہےلیکن
اس ڈاہری میں پاکستان سمیت عالمی حالات واقعات کوبھی ڈیلی بیس پر شامل کیا جا رہا
ہے
ڈاہری کی بیک یورپ کی
عالمی سیاست کا جرنلسٹ جوگی جیلانی ہے تعلق کرسچن ریاست ناروے سے ہے
اردو نیوزیورپ
یورپی
ریجن کی کرسچن ریاست ڈنمارک سے عالمی نیوزر سروس کا نام ہے
اس نیوزر
سروس کا اغاز محمد کے شی لاند پوسٹ میں شایع ہوءے ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ کو بارہ
تصویری خاکون کردار کشی کے
فوری
بعد 8 اکتوبر2005کو اردو زبان
سے شروع ہوا
اور یہ
انٹرنیشنل ان لاہن اس وقت میری دنیا میں نشریات کی ایک دوڑ میں
شامل ہے
اگر اپ کے پاس ان لاہن کی سہولت موجود ہے تو اپ بھی
اس ڈاہری میں حصہ ڈال سکتے ہیں
لیلی ناروے پاکستان کی تحصیل کھاریاں کے علاقہ
کا ناروے کی زبان میں نام ہے جس کا مطلب چھوٹا ناروے
کی سرکار کہی برس کی
محنت کے بعد بحیرہ اوقیانوس پر برج اور تھنل مطلب سرنگ کی تعمیر
مکمل کرنے میں کامیاب ہو گی ہے
یہ برج نارتھ ناروے کے
کرسچن سند سے مودلے اور بعد ازین نارتھ ایر لیڈ اور دوسرے
یورپی ایس لینڈ تک پہنچ گیا ہے
ناروے کا یہ سب سے
بڑا تعمیراتی پروجیکٹ ڈنمارک کے بعد ہے ڈنمارک قبل ازین سویڈن اور ڈنمارک کے
مابین بالٹک واٹر مطلب سمندر پر برج سرنگ
تعمیر کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے
ڈنمارک اب جرمن
اور ڈنمارک کے مابین سمندر پر پل اور سرنگ تعمیر کرنے پر کام کر رہا ہے
دوسری جنگ عظیم میں
جرمن کی نازی افواج نے چند گھنٹے میں ناروے اور
ڈنمارک پر قبصہ کر لیا تھا جو پانچ برس تک جاری
رہا ہے
اس فوجی قبصہ کو کتم کروانے کے
لہے ناروے اور ڈنمارک کے عوام کا بہت ہی بڑا کردار رہا ہے
ناروے میں پاکستان کے پہلے
کونسلر جرنل مسٹر وسل کو نازی افواج نے سزاءے موت
سنادی تھی جس روز وسل کو سزاءے موت دی جانا تھی نازی
افواج کی فرانس مین پیش قدمی رک گی تھی
امریکہ اس زمانہ
میں اپنی افواج بدریعہ ہواءی جہازروں لے کر یورپ پہنچا
تھا امریکہ کا پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بہت
بڑا کردار رہا ہے
نارتھ یورپی ریجن نورڈیکس بلاک کے ممالک ناروے سویڈن
گرین لینڈ فری اءی پر ڈنمارک کے رولز رہے ہیں
پہلے سویڈن علحدہ ہوا اور ناروے کا سویڈن کے ساتھ
الحاق کر دیا گیا بعد ازیں ناروے نے ۱۹۰۵ میں
سویڈن سے ازادی حاصل کر لی اس ازادی کے لہے
ناروے کی پارلیمنٹ کے سیاستدانون نے بڑا کردار ادا کیا
گرین لینڈ ہانس جزیزہ ناروے کا حصہ تھا
جب
ناروے کا سویڈن کے ساتھ الحاق ہوا تو ڈنمارک نے گرین
لینڈ اپنے پاس رکھ لیا اور ہانس جزیرہ بھی گرین
لینڈ کے پاس چلا گیا
گرین لینڈ
بحیرہ اوقیانوس میں میری دنیا کا سب سے بڑا ایس لینڈ ہے
جس کا رقبہ3ملین
مریع کلومیٹر ہے جو دیش بھارت کے رقبہ کے
برابر ہے
ہانس
جزیرہ کا رقبہ1.1ملین مربع
کلومیٹر ہے جو پاکستان کے رقبہ سے پچاس فیصد زیادہ
ہے
گرین
لینڈ کی ابادی ساٹھ ہزار کے قریب ہے اور اس کی ڈنمارک
179رکنی
فلکے تھنگ پارلیمنٹ میں دو نشتیں ہیں دو فری اءی
کی ہیں
اور 175ڈنمارک
کی ہیں جس کی ابادی5.2ملین سے زاہد ہے
یورپی اقوام اپس میں
لڑتی رہی ہیں ڈنمارک اور سویڈن کے مابین جنگیں لڑی گی ہیں
سویڈن اور ناروے کے مابین بھی جنگیں ہوءی ہیں اور امن معاہدے
بھی طے ہوتے رہے
ڈنمارک
اور ناروے کے مابین تعلقات کشیدہ بھی رہے ہیں
1970 کی دھاءی میں گرین لینڈ کے تھولے ایر بیس
سے امریکہ کے اٹیمی اسلحہ سے لیس جنگی طیارے نارتھ
ناروے کے بودے ایر بیس پر اتے اور جاتے رہے یہ وہ زمانہ
تھا جب ناروے مین کرسچن جماعت کرستلے فلکے کے پھیر
بیٹن کی سرکار تھی
اور ان کے ڈیفنس منسٹر کو
معلوم نہی کہ امریکہ کے جنگی طیارے اٹیمی اسلحہ سے لیس ناروے
اتے اور جاتے رہے
امریکہ کے اٹیمی اسلحہ سے لیس جنگی طیارون کو گرین لینڈ کے
تھولے ایر بیس پر1970
کی دھاءی میں حادثہ بھی پیش ایا اس حادثہ میں ڈھاءی ہزار
افراد ہلاک ہو گے تھے
گرین لینڈ کے متاثرین
کو امریکہ نے کوءی ہرجانہ بھی نہ دیا اور
مقدمات ڈنمارک کی کورٹس میں طوہل عرصہ چلتے رہے
چونکہ عدلیہ سرکار کے
زیر کنٹرول تھی اور سیاسدان عدلیہ کی ازادی کے لہے کام
کرتے رہے
ڈنمارک
دنیا کی وہ ریاست ہے جس کی عدلیہ اب
خود مختار ہے اسے یہ خود مختاری یکم جنوری1999
کو ملی تھی عدلیہ کی خود مختاری کےبعد اس نے سرد
کیسز کے فیصلے بھی دءے لیکن محمد کیس پر اس عدلیہ نے
کوءی بڑا کردار ادانہ کیا
محمد دھرم اسلام کے
بانی پیغمبر کانام ہے اور محمد کیس ڈنمارک کی کورٹس میں
چلتارہا ہے جسکا تعلق محمد کے بارہ تصویری
خاکون سے تھا
محمد کے خاکوں
کی اشاعت کے بعد سے محمد کے بہت سارے طرفدار ڈنمارک اور
یورپ کی جیلون میں بند ہیں
ناٹو
یورپی ممالک کی افواج ہے جس
مین ستاہیس رکن ممالک شامل ہیں امریکہ کنیڈا بحیرہ
اوقیانوس کے ایک طرف اور باقی ۲۵ ممالک یورپ میں
واقع ہیں
ناٹو
کا فوجی عہدہ امریکہ کے پاس اور سیاسی عہدہ یورپ کے پاس ہے اور اس وقت ڈنمارک
کے سابق پراءم منسٹر اندرس فوگ راسموسن ناٹو کے سیکرٹری جرنل ہیں
گوریمنٹ ہے جس کاکیپٹل برسلز ہے جو
بلجیم کا کیپٹل ہونے کے ساتھ ساتھ راہیل ناٹو کا ہیڈ
کوارٹر بھی ہے
یورپی کمشن یورپی یونین کی ایڈمنسٹریشن ہے
یورپی پارلیمنٹ
یورپی یونین کے رکن ممالک کی
پارلیمنٹ کا نام ہے
یورپی پارلمینٹ میں سیاسی گروپس
کی تعداد ۸ چل رہی ہے
یورپی کونسل
یورپی ممالک کا ایک کلب ہے جس میں
روس سمیت پنتالیس رکن ممالک ہیں پہلے
اس کلب کارکن بنایاجاتا ہے اور پھر دیکھاجاتا ہے کہ یہ یورپی
یونین کے لہے کیسا ہے اسے یونین میں
شامل کیا جاءے یا نہ
نورڈیکس کونسل
نارتھ ایسٹرن ممالک کا کلب ہے جس میں ڈنمارک
سویڈن ناروے فن لینڈ ایس لینڈ گرین لینڈ فری اءی شامل
ہیں
یورپ کا رقبہ ابادی
Countries and
dependencies
Country
Population density (/km2)
Area (km2)
Population
Population
density, area and population of countries and
dependencies in Europe(2002-07-01
est.)
[edit]De
facto independent, breakaway and disputed states
De Facto
Independent/Breakaway/Disputed State
Former/Disputed Sovereign Power
Population Density (/km2)
Area (km2)
Population
Population
density, area and population of De Facto
Independent/Breakaway/Disputed states from/of other
European countries(Data
sourced from relevant Wikipedia pages)
ایک طرف اس ریاست پر امریکہ
یورپ کاسیکورٹی کونسل کے نام پر دباو چل رہاہےاور دوری طرف
اس ریاست کے اسلامی لوگ خود کش حملے کر رہے ہیں یہ
ایک بہت ہی خطرناک صورتحال ہے
افواج پولیس مشکلات کا
شکارہے اور عسکری حملوں میں ناکام ہو گی تو اس ریاست میں قانون
ختم لوٹ مار کے ایک دور کا اغاز ہو جاءے گا
قیام امن کی کوءی بھی امید نہی
ہے جب تک امریکہ یورپ کے پاس لکشمی ہے جنگ چلتی رہے گی
جب امریکہ یورپ کا
خزانہ خالی ہو گیا محمد کے اسلحہ بردار ون کے دور
کااغازہوجاءے
لیکن اس دور کے انےمیں ابھی
بہت لمبا عرصہ ہے
روس
کے لیڈر ولادی میر پوتن اس بات کے حق میں
ہیں
کہ عالمی سیاست کاتوازن
امریکہ یورپ کے حق میں ہی رہنا چاہے یہ ارتھوڈیکس کرسچن ہیں
لیکن قران کے پیغمبر
محمد کے اسلحہ برداروں کی سوچ مغرب سے مشرق کی طرف عالمی
توازن کو منتقل کرنے پر ہے
اور ان کو امریکہ
یورپ دشت گرد پکارتے ہیں چونکہ ان کی سیاست امریکہ
یورپ کی سوچ کے خلاف ہے
اگر محمد کےاسلحہ بردارامریکہ
یورپ کی عالمی سیاست سے اتفاق کر لیں تو چوبیس گھنٹے کے
اندراندر یہ سب دشت گرد امریکہ یورپ کی نظر میں
مجاہدین اسلام ہو جاہیں گے
دشت گردی کے نام پر جو اس وقت
جنگ جاری ہے اس کی یہ ایک عالمی تصویر ہے
تپ
دق ویکسین تجرباتی مراحل میں
|
واشنگٹن
عالمی ادارہ ِ
صحت نے حال ہی میں ایسے69 ملکوں کی فہرست مرتب ہے جہاں ٹی
بی کے ایسے مریض پائے جاتے ہیں جن پر دوا اثر نہیں کرتی۔
اس کی وجہ ایسا بیکیڑیا ہے جو انسان میں تپ ِ دق کی ادویات
کے لیے مدافعت پیدا کرتا ہے۔ عالمی ادارہ ِ صحت کے مطابق
دنیا بھر میں ہر سال25 ہزار افراد اس مسئلے کا شکار ہوتے
ہیں۔
عالمی ادارہ ِ صحت کی سربراہ ڈاکٹر مارگریٹ چن کہتی ہیں
کہ اس مسئلے کا فوری حل ڈھونڈنا ناگزیرہے۔
طبی ماہرین کہتے
ہیں کہ زیادہ تر چین اور بھارت جیسے ملکوں کے لوگ اس مسئلے
کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ جس کی ایک وجہ وہاں پر مریضوں
میں مرض کی درست تشخیص کا نہ ہونا یا پھر علاج کے لیے غلط
دوائیں دینا ہے۔
ڈاکٹر نیرج مستری ، صحت ِ عامہ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ
کہتے ہیں کہ بھارت میں بہت کم ڈاکٹر ایسے ہیں جو ٹی بی کے
مریضوں کو درست ادویات دے رہے ہیں۔ان کا کہناہے کہ اگر ہم
مریضوں کو غلط دوادیں گے اور مرض کی درست تشخیص نہیں کریں
گے تو ہمیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔
طبی ماہرین کہتے
ہیں کہ ٹی بی کی دوا کے خلاف مریضوں میں پیدا ہونے والی
قوت ِ مدافعت کی وجہ سے کسی نئی اور موثر دوا کی اہمیت
ناگزیر ہو گئی ہے۔
جبکہ تب ِ دق سے بچاؤ کے لیے ویکسین کا استعمال بھی مؤثر
ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر این گنز
برگ ، ٹی بی سے متعلق ایک ادارے سے منسلک ہیں۔ اور ٹی بی
سے بچاؤ کے لیے ایک ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں
کہ انہیں امید ہے کہ 2020ء تک یہ ویکسین تیار ہو جائے گی۔
ان کا کہناہے کہ
ٹی بی کے لیے ویکسین کی تیاری ایک طویل اور وقت طلب مرحلہ
ہے۔ اس کی وجہ اس بیماری کی پیچیدہ نوعیت ہے۔ عموما لوگوں
کو ٹی بی ہو جاتی ہے اور وہ برسوں تک بیمار نہیں پڑتے ۔
اسی لیے اس کی دوا بنانے کےلیے اور لوگوں پر تجربہ کرنے کے
لیے بہت وقت چاہیئے۔
بی کے لیے نئی
ویکسین کا انتظار بہت طویل اور صبر آزما ثابت ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارہ ِ صحت کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ ٹی بی کے
مریضوں کے لیے اس سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع تک ایک
نئی اور مؤثر دوا سامنے لائی جا سکے۔
ابتدائی انسان نے
افریقہ سے عرب ہجرت کی تھی: تحقیق
قبل ازیں اس مفروضے
کے حق میں بہت کم سائنسی شواہد دستیاب تھے کہ زمانہ قدیم کے
انسان نے پہلے پہل جو طویل سفر کیا وہ بحرِ احمر پار کرکے
جنوبی عرب کے علاقے کی جانب تھا
واشنگٹن
ایک نئی تحقیق
میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا کے ابتدائی انسانوں نے قرنِ
افریقہ سے عرب علاقے کی جانب ہجرت کی تھی۔ اس سے قبل پیش
کیے گئے بعض نظریات میں دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ انسان کے
پہلے سفر کی منزل شمالی افریقہ یا مشرقِ قریب کے علاقے تھے۔
سائنس دانوں کے
ایک وسیع حلقے میں اس مسئلے پر خاصی بحث ہوتی آئی ہے کہ
زمانہ قدیم کے انسان نے دنیا کے طول و عرض میں آباد ہونے
سے قبل کس مقام کو اپنی جائے قرار بنایا تھا۔
قبل ازیں اس
مفروضے کے حق میں بہت کم سائنسی شواہد دستیاب تھے کہ زمانہ
قدیم کے انسان نے پہلے پہل جو طویل سفر کیا وہ بحرِ احمر
پار کرکے جنوبی عرب کے علاقے کی جانب تھا۔
لیکن اب حال ہی
میں یورپی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ
انہوں نے 60 ہزار برس قبل موجود ان انسانوں کی تین
ابتدائی شاخوں کا مطالعہ کیا ہے جنہوں نے پہلے پہل افریقہ
سے باہر کی دنیا کا سفر اختیار کیا۔
سائنس دانوں کا
کہنا ہے کہ وہ عرب علاقے اور مشرقِ قریب میں ابتدائی زمانے
میں بسنے والے افراد کے 'ڈی این اے' کے تقابل سے اس نتیجے
پر پہنچے ہیں کہ عرب علاقے میں بسنے والے افراد کا قدیم
آبائی تعلق افریقہ سے تھا۔
یہ نئی تحقیق
برطانیہ کی 'یونیورسٹی آف لیڈز' اور پرتگال کی 'یونی ورسٹی
آف پورٹو' سے منسلک محققین کی سربراہی میں کی گئی ہے جسے
امریکہ کے 'جرنل آف ہیومن جینٹکس' نے شائع کیا ہے۔
روسی صدر پر مسٹر
پوٹن کی حمایت سے ہچکچانے کا الزام
واشنگٹن
وزیر اعظم ولادی
میر پوٹن کی صدارتی انتخابی مہم کے سربراہ نے روس کے صدر
دیمتری میدویدیف پر الزام لگایا ہے کہ وہ مسٹر پوٹن کی
صدارتی کی تاریخی تیسری مدت کی حمایت کرنے میں ناکام رہے
ہیں۔
جمعے کے روز
اخبار روزمامہ از وستیا میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو
میں سٹینس لاف گوورکن نے ، جو ایک قانون ساز اور مشہور
فلم ڈائریکٹر ہیں ہیں، الزام لگایا کہ مسٹر میدویدیف ،
مسٹر پوٹن کی انتخابی مہم سے فاصلہ قائم کررہے ہیں۔
انہوں نے مشورہ
دیا کہ مسٹر میدویدیف کو اس شخص کی زیادہ مؤثر طورپر حمایت
کرنی چاہیے جس نے انہیں صدارت کے لیے نامزد کیا تھا۔
وزیر اعظم کے
ترجمان دیمتری پسکوف نے گوروکن کے بیان پر اپنے تبصرے میں
کہا کہ سبکدوش ہونے والے صدر ، مسٹر پوٹن کو اس عہدے کے
لیے نامزد کرکے ان کی غیر معمولی حمایت کرچکے ہیں۔
صدر میدویدیف اس
نکتہ چینی کی ہدف بنے ہوئے ہیں کہ وہ مارچ کے صدراتی
انتخاب میں مسٹر پوٹن کی فتح کو یقینی بنانے کے لیے محض
ایک مدت پوری کرنے کے بعد اپناعہدہ چھوڑ رہے ہیں۔
وہ یہ کہہ چکے
ہیں کہ مسٹر پوٹن زیادہ پسند یدہ ہیں اور یہ کہ سیاست میں
ان دونوں کے نظریات ایک جیسے ہیں۔ چنانچہ ان کے پاس ایسا
کوئی پہلو نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ مسٹر پوٹن کا انتخاب
میں مقابلہ کریں ۔
دسمبر کے
پارلیمانی انتخابات کے بعد سے ان الزامات کی بنا پر کہ
الیکشن میں مسٹر پوٹن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے حق میں
جعل سازی ہوئی تھی ،روس میں بڑے پیمانے کے احتجاجی مظاہرے
ہوتے رہے ہیں ۔
بھارت:
پولنگ اسٹیشن پر حملہ، پانچ افراد ہلاک
واشنگٹن
شمال مشرقی
بھارت میں عسکریت پسندوں نے ایک پولنگ اسٹیشن پر پانچ
لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
عہدےداروں نے کہاہے کہ ہفتے کے روز ریاست منی پور کے
ضلع چندل میں باغیوں نے حملہ کرکے ایک عورت ، الیکشن
ڈیوٹی کے عملے کے تین اہلکاروں اور ایک فوجی کو ہلاک کر
دیا۔
خبروں کے مطابق
عسکریت پسندوں نےمقامی اسمبلی کے ایک نئے انتخاب کے موقع
پر ایک پولنگ اسٹیشن پر دھاوا بولا۔
یہ حملہ اس کے
باوجود ہوا کہ حملوں کے امکان کے پیش نظر علاقے میں
سیکیورٹی کے سخت تر انتظامات کیے گئے تھے ۔
شام پر سلامتی کونسل
کی قرارد ناقابل قبول ہے: روس
واشنگٹن
روس نےکہا ہے کہ
شام پر یورپ اور عرب ارکان کی قرار داد کا جو مسودہ جمعے
کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا ہے وہ
ناقابل قبول ہے۔ لیکن ماسکو اس پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
اقوام متحدہ میں
روس کے سفیر وٹیلی چرکن نے کہا کہ مسودے کے متن میں،
اسلحے کی کسی بھی قسم کی پابندی کے نفاذ سمیت، ماسکو کے
انتباہ میں جن پہلوؤں سے روکا گیا تھا، اسے نظر انداز کیا
گیا ہے ۔
قرار داد عرب
لیگ کے اس منصوبے کی حمایت کرتی ہے جس میں صدر بشار الاسد
سے اقتدار کسی نائب کوسونپنے اور انتخابات کی تیاری کے لیے
ایک متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیاگیاہے ۔
اگلے منگل کوعرب
لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العرابی اور قطر کے وزیراعظم
پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو شام میں عرب لیگ کے ایک ماہ
پر محیط مانیٹرنگ مشن پر بریف کریں گے۔ اس مشن کو شام
میں اپنے قیام کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔
یہ توقع بھی ہے
کہ سلامتی کونسل میں اگلے ہفتے یہ قرارداد باضابطہ طور
پر پیش کردی جائے گی جس کے بعد اس پر جلد ہی ووٹنگ کی
توقع کی جارہی ہے۔
ایک اور خبر کے
مطابق شام میں جمعے کے روز تشدد میں اضافہ ہوا اور
حالیہ دنوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70سے تجاوز کر
گئی ہے
سر گرم کارکنوں
نے کہنا ہے کہ فورسز نے جمعے کے روز ملک بھر میں اپنی
کارروائیوں کے دوران 37 سے زیادہ افراد ٕ کو ہلا ک کر دیا
۔
شام کے ایک سر
گرم کارکن رامی عبدالرحمان نے وی او اے کو بتایا کہ شمال
مغربی شہر ادلیب میں ایک کار بم دھماکے میں سیکیورٹی
فورسزکے چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے ۔صدر اسد کی حامی فورسز
کے باے میں یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ انہوں نےحمص شہر میں
اچانک دھاوا بولا۔
شام میں عرب لیگ
کے مبصر مشن نے جمعے کے روز کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق
منگل سے حمص ، حماء اور ادلیب میں پر تشدد کارروائیوں
میں اضافہ ہوا ہے۔
روس:
حزب اختلاف کے لیڈر پر انتخابی پابندی
واشنگٹن
روسی عہدے داروں
نے حزب اختلاف کے اعتدال پسند راہنما گریگوری یاولنسکی کے
رجسٹریشن فارموں پر مبینہ اعتراضات لگا کر الیکشن میں حصہ
لینے پر پابندی لگادی ہے۔
یاولنسکی وزیر
اعظم ولادی میر پوٹن کے خلاف الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان
کرچکے ہیں۔
جمعے کےروز
سینٹرل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مسٹر یاولنسکی کی
امیدواری کی تائید کے لیے جمع کیے گئے تقریباً 25 فیصد
دستخط غیرمستند تھے ۔
یابلوکو پارٹی کے راہنما یاولنسکی نے کہا ہے کہ سرکاری
اہل کاروں نے انہیں الیکشن سے روکنے کی پابندی اس لیے
لگائی ہے تاکہ برسراقتدار حکمران ٹولے اور خاص طور پر
صدارتی الیکشن کے لیے حالات اپنے حق میں انتہائی سازگار
بنائے جاسکیں۔
مشرق وسطیٰ میں ایک
متحرک امریکی بحری فوجی اڈے کا منصوبہ
واشنگٹن
میڈیاکی ایک
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج مشرق وسطیٰ میں، جہاں
ایران کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور دوسرے ملک سیاسی
مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں، کمانڈوز فورس کا ایک ایسا
فوجی اڈا بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے ضرورت کے وقت ایک
جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جاسکے۔
ہفتے کےر وز
واشنگٹن پوسٹ نے امریکی بحریہ کی دستاویزات کے حوالے سے،
جن کی خصوصی طورپر نشاندہی نہیں کی گئی ، لکھا ہے کہ
امریکی فوج ایک پرانے جنگی جہاز کو مدر شپ کے نام سے،
کمانڈوز کے لیے ایک تیرتے ہوئے فوجی مرکز میں ڈھالنے کا
ارادہ رکھتی ہے
بحریہ کے ایک
ترجمان نےاس منصوبے یا اس سے منسلک یہ تفصیلات بتانے سے
انکار کر دیا کہ مدر شپ کو مشرق وسطیٰ میں کہاں متعین کیا
جائے گا۔
رپورٹ میں کہا
گیا ہے کہ مذکورہ بحری جنگی جہاز کو خلیج فارس میں بھیجا
جا سکتا ہے، جہاں ایران آبنائے ہرمز میں تیل کی اہم
رسدی گزر گاہوں کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے ۔
امریکی بحریہ کے
دوسرے عہدے داروں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ پینٹا گان
توقع ہے کہ بحری جنگی جہاز کو فوجی مرکز میں تبدیلی کا عمل
مکمل کرکے اسے سال کے آخر تک مذکورہ علاقے میں بھیج دے
گا۔
شام میں عرب لیگ کا
مبصر مشن معطل
واشنگٹن
عرب لیگ نے
کہاہے کہ وہ شام میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد وہاں
اپنا مبصر مشن معطل کر رہا ہے ۔ لیکن ہفتے کے روز لیگ کے
عہدے داروں نے کہا کہ لیگ کے معائنہ کار اگلے کسی حکم تک
شام میں موجود رہیں گے۔
عرب لیگ کا نگران
مشن گذشتہ ایک ماہ سے شام میں مقیم ہے تاکہ وہ یہ جائزہ
لے سکے کہ شام کے عہدے دار حکومت مخالف کے خلاف پرتشدد
کارروائیاں روکنے کے سلسلے میں عرب لیگ کے منصوبے پر کس حد
تک عمل کررہے ہیں ۔
عرب لیگ نے حال
ہی میں ایک اور منصوبہ پیش کیا ہے جس میں بشا ر الاسد سے
اقتدار کسی نائب کو سونپنے اور انتخابات کی تیاری کے لیے
کسی متحدہ قومی حکومت کی تشکیل دینے کے لیے کہا گیا ہے
۔
حالیہ دنوں میں شام
میں 70 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ سر گرم کارکنوں کا
کہنا ہے کہ حکومت کی فورسز نے جمعے کے روز حملوں میں 37 سے
زیادہ لوگ ہلاک کر دیے ۔
برما: جمہوری اصلاحات
جلد مکمل کرنے کا وعدہ
واشنگٹن
برما کے ایک اعلی
عہدے دار نے بین الاقوامی برادری سے کہا ہے کہ ان کے ملک
کی حکومت نے، جسے فوج کی حمایت حاصل ہے، ابھی جمہوری
اصلاحات کے نفاذ کا کام مکمل نہیں کیاہے ۔
وزیر تجارت یو سو تھین نے ہفتے کےر وز خبر رساں ادارے
روئیٹر کو بتایا کہ اصلاحات کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے
۔ انہوں نے کہا کہ برما کی حکومت مزید سیاسی تبدیلیوں اور
اقتصادی شعبے میں اصلاحا ت کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر تجارت نے یہ
بیان سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں دیا جہاں وہ عالمی
اقتصادی فورم میں برما کے پہلے سرکاری وفد کی قیادت کر
رہےہیں۔
انہوں نے کہا کہ
برما سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول تشکیل دینے اور
چین ، امریکہ اور یورپی یونین سمیت ، تھائی لینڈ ، بنگلہ
دیش ، بھارت اور لاؤس جیسے پڑوسیوں کی توجہ اپنے ملک کی
جانب مبذول کرانے کی کوششیں کر رہا ہے ۔
نوبیل انعام
یافتہ شخصیت اور حزب اختلاف کی لیڈر آن سان سوچی بھی
مندوبین سے ویڈیو لنک کے خطاب کے ذریعے کانفرنس میں
شامل ہوئیں ۔
انہوں نے ڈیوس
میں برما کے وزیر تجارت کی موجوددگی کو ایک مثبت علامت
قرار دیا لیکن انہوں نےیہ بھی کہا کہ برما ابھی تک تبدیلی
کے کسی بڑے مرحلے میں داخل نہیں ہوا ہے
2014ء تک افغانستان
میں برطانوی فوجی موجودگی قائم رہے گی: ڈیوڈ کیمرون
واشنگٹن
برطانیہ نے کہا
ہے کہ وہ افغانستان میں 2014 تک اپنی فوجی موجودگی برقرار
رکھے گا۔
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ہفتے کےر وز نامہ
نگاروں کو بتایا کہ ان کا اپنے ملک کے فوجیوں کو موجودہ
ڈیڈ لائن کے اختتام سے قبل افغانستان سے واپس بلانے کا
کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔
انہوں نے یہ بھی
کہاکہ برطانیہ کابل کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھنا
چاہتا ہے کیوں کہ دہشت گردی سے پاک ایک محفوظ اور مستحکم
افغانستان کا وجود پوری دنیا کے مفاد میں ہے
مسٹر کیمرون نےیہ
بیان لندن سے باہر افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات
کے بعد دیا۔ برطانوی لیڈر نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان
کو 2014ءمیں اپنے فوجیو ں کے انخلا ءکے بعد بھی امداد کی
فراہمی جاری رکھے گا۔
ان کا نقطہ نظر
فرانس کے صدر نکولا سارکوزی سے مختلف تھا جنہوں نے جمعے کے
روز مسٹر کرزئی سے ملاقات کی تھی۔ مسٹر سارکوزی نے کہا تھا
کہ فرانسیسی فوج نیٹو مشن کے پروگرام کے ایک سال قبل
2013ءمیں افغانستان سے چلی جائے گی۔
فرانسیسی صدر نے
یہ بھی کہا کہ فرانس مارچ میں مشرقی صوبے کپیسا کی
سیکیورٹی افغانوں کے حوالے کر دے گا ۔
فرانس کے زیادہ
ترفوجی دستے اسی صوبے میں تعینات ہیں اور اسی صوبے میں گزشتہ
ہفتے چار غیر مسلح فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
مسٹر کرزئی نے
کہا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران فرانس اور دوسرے ملکوں سے مدد
کے بعد اب افغانستان مزید ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار
ہے ۔
پاکستان بھارت:
گرفتار ماہی گیروں کو رہا کیا جائے
|
نئی دہلی
بھارت اور
پاکستان کے چار سابق ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیٹی نے بھارت
کی مختلف جیلوں کا دورہ کرنے کےبعد سفارش کی ہے کہ دونوں
ملکوں کے جو ماہی گیر بلا ارادہ آبی سرحد عبور کرکے دوسرے
ملک کی سرحد میں داخل ہو جائیں، اُن کو اُن کی کشتیوں کے
ساتھ بحری راستے سے واپس بھیج دیا جائے۔
کمیٹی نے گذشتہ
سال دونوں ملکوں کے مابین ہونے والے سکریٹری داخلہ سطح کے
مذاکرات کی توسیخ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا ارادہ زمینی
سرحدوں کو عبور کرنے والوں کی مانند بلا ارادہ آبی حدود کو
عبور کرنے والوں کو بھی رہا کرنے کا طریقہٴ کار وضع کیا
جانا چاہیئے۔
کمیٹی نے اپنے
ایک بیان میں مزید کہا کہ جِن بیمار قیدیوں کی حالت نازک
ہو اور جو قیدی ذہنی معذور ہوں، اُن کو اسپتالوں میں رکھا
جانا چاہیئے، خواہ اُن کی شہریت کی تصدیق ہوئی ہو یا نہ
ہوئی ہو۔
تاہم، اُس نے
دونوں ملکوں کے مابین مئی 2008ء میں ہونے والے قیدیوں تک
حکام کی رسائی کے معاہدے پر مکمل نفاذ نہ ہونے پر تشویش
ظاہر کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گرفتاری کے تین ماہ کے
اندر ’کونسلر ایکسیس‘ کی سہولت دی جائے اور سزاؤں کی تکمیل
اور شہریت کی تصدیق کے ایک ماہ کے اندر اُنھیں اُن کے ملک
واپس بھیج دیا جائے۔
کمیٹی کے ارکان
نے تہاڑ جیل نئی دہلی، سینٹرل جیل جے پور اور سینٹرل جیل
امرتسر کا دورہ کیا، جہاں اُن کے سامنے علی الترتیب 46،
96اور 45پاکستانی قیدی پیش کیے گئے۔
یہ کمیٹی پاکستان
سے دو سابق ججوں جسٹس ناصر عالم زاہد اور جسٹس میاں محمد
اجمل اور بھارت سے جسٹس اے ایس گِل اور جسٹس ایم اے خان پر
مشتمل تھی۔
سیاست میں سرمائے کا
عمل دخل روکنے پر سرمایہ کاری کی جائے: صدر اوباما
واشنگٹن
امریکہ کے صدر
براک اوباما نے کانگریس سے تعطل ختم کرنے کی اپیل کرتے
ہوئے کہاہے کہ وہ ایسے قوانین منظور کریں جن کی مدد سے
سیاست میں سرمائے کے اثرورسوخ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے
میں مدد مل سکے۔
ہفتے کے روز ا
پنے ہفتہ وار خطاب میں مسٹر اوباما نے کہاکہ کانگریس کے
ارکان ججوں اور پبلک سروس کے عہدوں کے لیے ان کی
نامزدگیوں پر رکاوٹوں کھڑی کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ
امریکی عوام تعطل اور کھیل تماشوں کی بجائے بہتر صورت حال
کے مستحق ہیں اور انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ وہ ایک
ایسا قانون منظور کریں جس سے ووٹنگ کے ذریعے نامزد کردہ
افراد کے حق یا مخالفت کا فیصلہ 90 روز کے اندر ہوجائے۔
مسٹر اوباما نے
ایک ایسی قانون سازی کی بھی اپیل کی جس کے ذریعے منتخب
عہدے داروں کے مارکیٹ پر اثر ورسوخ روکنے کے لیے ان پر
صنعتوں کے اسٹاک کی خرید پر پابندی عائد کی جاسکے۔
انہوں نے کہا
کہ ان لوگوں پر بھی پابندی لگائی جائے جو کانگریس کے لیے
لابی کرنے والے ارکان سے انتخابی مہم کے لیے عطیات وصول
کرتے ہیں۔
صدر نے کہا کہ
یہ واشنگٹن کے راہنماؤں کے لیے مناسب وقت ہے کہ وہ حقیقی
مسائل کے حل کی جانب توجہ دیں ، مثال کے طور پرمعاشی صورت
حال کو بہتر بنانے سے متعلق۔
افغانستان کے مستقبل کے بارے سابق اعلیٰ امریکی
عہدیداروں کی رائے
اقوامِ
متحدہ کے تفویض کردہ اختیارات کے تحت کام کرنے
والی 130,000 سپاہیوں پر مشتمل یہ فورس
’’انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس‘ یا (ISAF)
کہلاتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کے تین مقاصد ہیں۔
پہلا مقصد تو صدر حامد کرزئی کی مدد کرنا ہے تا کہ
وہ ملک میں تعمیرِ نو کر سکیں اور اسے مستحکم کر
سکیں۔ دوسرا مقصد افغان فوج اور پولیس کو تربیت
دینا ہے اور تیسرا مشن یہ ہے کہ باغیوں کا پتہ
چلایا جائے اور ان کا صفایا کر دیا جائے، خاص طور
سے جنوبی افغانستان میں، جو طالبان کا گھر ہے۔
|
واشنگٹن
فوٹو ASSOCIATED PRESS
’’پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی جب ہم اس کی
سیکیورٹی کا سب سے بڑا ذریعہ تھے اس کے ساتھ
ہمارے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔ ‘‘
2001
میں امریکہ کی زیرِ قیادت فوجوں نے طالبان
کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
امریکہ اور نیٹو کا ہدف یہ ہے کہ 2014 کے آخر
تک جنگی کارروائیاں افغان فورسز کے حوالے کر
دی جائیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے
سابق سفیر جان بولٹن کو یقین نہیں کہ افغان
سیکورٹی اور مسلح افواج اس ذمہ داری کا
بوجھ اٹھا سکیں گی۔ ’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ
یہ ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوں گی۔ لیکن اس
کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کی تربیت میں کمی
ہوگی یا ان کے پاس ضروری ساز و سامان نہیں ہو
گا۔ میرے خیال میں یہاں پالیسی میں ایک
بنیادی نقص ہے۔ ہم افغانستان کو ایک ایسی
مملکت سمجھ رہے ہیں جیسے وہ کہیں مغربی یورپ
میں واقع ہو، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا مسئلہ
افغان حکومت کی صلاحیت کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے
کہ طالبان اور القاعدہ کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔
اور آثار ایسے ہیں کہ یہ خطرہ باقی رہے گا
چاہے کاغذ پر افغان حکومت 2014 یا 2015 میں
کتنی ہی اہل کیوں نہ معلوم دیتی ہو‘‘۔
طالبان نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ قطر میں
اپنا ایک سیاسی دفتر کھولیں گے۔ بعض ماہرین
کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بالآخر
ابتدائی بات چیت شروع ہوگی اور پھر امن
مذاکرات ہوں گے۔ لیکن قومی سلامتی کے سابق
مشیر جنرل برینٹ سکوکرافٹ کہتے ہیں کہ ہمیں
بہت محتاط رہنا چاہیئے۔’’ہمارے لیے طالبان کے
ساتھ مذاکرات کرنا بہت مشکل کام ہے۔ وہ ہمیں
وہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ہم جس چیز
پر بھی مذاکرات کریں، وہ کامیاب ہوں گے۔ ہم
چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا سہارا نہ لیں
اور القاعدہ کے لیے پناہ گاہ نہ بنیں۔ لیکن ہم
جیسے ہی وہاں سے نکلیں گے ہمیں ان پر کوئی
کنٹرول نہیں رہے گا۔ لہٰذا یہ مذاکرات یکطرفہ
رہیں گے‘‘۔
سابق
وزیرِ دفاع ویلئیم کوہن کہتے ہیں کہ باغیوں
کے ساتھ مذاکرات کا انحصار اس بات پر ہوگا
کہ آپ طالبان کے کس دھڑے کی بات کر رہے ہیں۔
’’اگر یہ وہ طالبان ہیں جو اپنے ہتھیار ڈالنے
اور پُر امن حل کے لیے کام کرنے کو تیار
ہیں تو ان سے کم از کم بات ہو سکتی ہے۔ میرے
خیال میں یہ کام بڑا مشکل ہو گا کیوں کہ ماضی
میں بہت سے لوگ طالبان کے ظلم و زیادتی کا
شکار ہو چکے ہیں اور وہ پھر اس دنیا میں واپس
جانا نہیں چاہتے۔ لہٰذا طالبان کے بارے میں
لوگوں کا تاثر کیا ہے اور ان کا رویہ کیا
رہتا ہے اس کی روشنی میں ہی مستقبل میں ان کے
کسی رول کا تعین ہو سکتا ہے‘‘۔
بولٹن، کوہن اور اسکوکرافٹ کا خیال ہے کہ
افغانستان کے تنازعے کی کسی بھی حل میں
پاکستان کو شامل کیا جانا چاہیئے۔ جنرل
اسکوکرافٹ کہتے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے
ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کرنے کے لیے سخت
محنت کرنی چاہیئے۔
’’پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی جب ہم اس کی
سیکیورٹی کا سب سے بڑا ذریعہ تھے اس کے ساتھ
ہمارے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔
پاکستانیوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم نے انہیں
کئی بار بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا
انہیں امریکہ پر اعتماد کرنے میں بہت زیادہ
تامل ہے۔ لیکن ایک ایسے علاقے کے قیام کے لیے
جو ہماری کم از کم ضروریات پوری کرتا ہو
ہمارے لیے ایک نسبتاً مستحکم اور خوشحال
پاکستان ضروری ہے‘‘۔
گذشتہ نومبر میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان
تعلقات اس وقت تیزی سے خراب ہو گئے جب نیٹو کے
ایک حملے میں تقریباً دو درجن پاکستانی سپاہی
ہلاک ہو گئے ۔ اسلام آباد نے اس کے رد عمل میں
پاکستان سے افغانستان رسد بھیجنے کے تمام
راستے بند کر دیے ۔ یہ راستے بدستور بند ہیں۔
مشرف
کا پاکستان واپسی کا ارادہ ملتوی
سابق صدر نے اپنی
جماعت کی اِن سفارشات سے اتفاق کیا ہے جِن میں اُن سے کہا گیا
تھا کہ وہ اپنے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق وطن واپس نہ جائیں:
'آل پاکستان مسلم لیگ' کے سیکریٹری جنرل کا بیان
واشنگٹن
فوٹو
Reuters
آٹھ
جنوری کو جنرل(ر) پرویز مشرف نےدبئی سےٹیلی فون
پرکراچی کےجلسے سے خطاب کیا
پاکستان کےسابق
فوجی صدرجنرل (ر) پرویز مشرف نےملک کی موجودہ سیاسی صورتِ
حال کے باعث وطن واپسی کا ارادہ ملتوی کردیا ہے۔
سابق صدر کی
جماعت 'آل پاکستان مسلم لیگ' کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سیف
نے جمعے کو دبئی میں صحافیوں کو بتایا کہ سابق صدر نے
اپنی جماعت کی اِن سفارشات سے اتفاق کیا ہے جِن میں اُن سے
کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق وطن
واپس نہ جائیں۔
بیرسٹر سیف نے
سابق صدر کو وطن واپسی سے گریز کا مشورہ دینے کی وجہ ملکی
حالات بتائے جہاں ان کے بقول حکومت اور سپریم کورٹ میں
بظاہر کشیدگی پائی جاتی ہے۔
صدر مشرف 2008ء
میں اپنے خلاف مقدمات سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک چلے آئے
تھے جس کے بعد سے وہ دبئی اور لندن میں خودساختہ جلاوطنی
کی زندگی گزار رہے ہیں۔
مشرف نے حال ہی
میں جنوری کے اختتامی ہفتے میں وطن واپسی کا اعلان کیا تھا
تاہم پاکستانی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اگر وہ واپس آئے
تو انہیں سابق وزیرِاعظم اور موجودہ حکمران جماعت پاکستان
پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ بے نظر بھٹو کے قتل کے الزام
میں حراست میں لے لیا جائے گا۔
بے نظیر بھٹو کو
صدر مشرف کے دورِ اقتدار میں دسمبر 2007ء میں اس وقت قتل
کردیا گیا تھا جب وہ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد واپس
جارہی تھیں۔
گوکہ صدر مشرف
محترمہ بھٹو کے قتل کا الزام طالبان پر عائد کرتے ہیں۔
تاہم، استغاثہ کا موقف رہا ہے کہ اس واردات میں ان کا بھی
کوئی کردار تھا۔
بیرسٹر سیف نے
صحافیوں کو بتایا کہ پرویز مشرف نے وطن واپسی کا ارادہ
ملتوی کردیا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی نئی تاریخ
نہیں دی کہ سابق صدر دوبارہ کب وطن جانے کا ارادہ رکھتے
ہیں۔