ہم سے متعلق معلومات آپ کی راءے ہم سے رابطہ نیوز ہوم

 

 

 

اردو نیوز

تارکین وطن نیوز

کھاریاں نیوز

                                           

                               

 

Pakistan 

 World  Newser service   پاکستان ورلڈ نیوزر  سروس   Rehaim  jeelani  Canada                                                           رحیم جیلانی کنیڈا

World Newser Service

 

 

Kharian Int national Newser Service

کھاریان انٹرنیشنل نیوزر

      index.htm       

 

                                                                                                                                                                                                                   

ہمارے ساتھ رابطہ کے لہے ای میلContact us

  Our Contact email      Jeelanidk@live.dk

denmarkd15@gmail.com

ہہمارے ساتھ رابطہ کے لہے

 

اردو نیوز

تارکین وطن نیوز

نیوز

کھاریاں نیوز

 

European Union

Nato States

World Capitals

United Nations

Nordic Council

Asean

Global Leaders

Commonwealth

European Council

 

ICC

European Parliament

League of Arab states

Muhammadan States

Global rulers King president Primminsters

 

 

Asia

Europe

North America

 

South America

Australia

 

you send us information through email

Our Contact email      Jeelanidk@live.dk

 

تازہ ترین 

 

 Google

Translate from:Translate into:

 

 

 

Latest Newser

Your World Today

January 29,2012Sunday

 

انٹرنیشنل جرنلسٹ  جوگی جیلانی  کی طرف سے چوبیس گھنٹے مسلسل آن لاہن  نشریات پیش کی جا رہی ہیں

تازہ ترین 

 

 Google

Translate from:Translate into:

The Holy Qur'an

The Holy Qur'an - القرآن الكريم

Muhammad and his Book

اردو نیوز

تارکین وطن نیوز

نیوز

کھاریاں نیوز

 

 اسوقت ہماری  اردو نشریات مسلسل اوپر  کے   لینکس سے   جاری ہیں

 

More latest newser

Klikk abovemention Link

 

Great 

Kharian 

Dairy

لیلی ناروے

ڈیلی بیس ڈاہری

کھاریاں ڈنگہ کوٹلہ عرب علی  خان  لالہ موسے سراءے عالمگیر کے علاقون پر مشتمل ہے لیکن اس ڈاہری میں پاکستان سمیت عالمی حالات واقعات کوبھی ڈیلی بیس پر شامل کیا جا رہا ہے

ڈاہری کی بیک یورپ کی   عالمی سیاست کا جرنلسٹ  جوگی جیلانی ہے تعلق کرسچن ریاست ناروے سے ہے

اردو نیوزیورپ

یورپی ریجن کی کرسچن  ریاست ڈنمارک سے عالمی  نیوزر سروس کا نام ہے

 اس نیوزر سروس کا اغاز محمد  کے شی لاند پوسٹ میں شایع ہوءے ۳۰ ستمبر ۲۰۰۵ کو بارہ تصویری  خاکون کردار کشی کے

 

 فوری  بعد 8 اکتوبر2005کو اردو زبان سے شروع ہوا

اور یہ انٹرنیشنل  ان لاہن اس وقت میری  دنیا میں نشریات کی ایک  دوڑ میں شامل ہے 

اگر اپ کے پاس ان لاہن کی سہولت موجود ہے تو اپ بھی اس ڈاہری میں   حصہ ڈال  سکتے ہیں

لیلی ناروے پاکستان کی تحصیل کھاریاں کے علاقہ  کا ناروے کی زبان میں  نام ہے جس  کا مطلب  چھوٹا ناروے

ای میل  Jeelanidk@live.dkہمارے  ساتھ رابطہ

عظیم کھاریاں

 کی ڈاہری

ناروے

کی سرکار کہی برس کی محنت کے بعد بحیرہ اوقیانوس پر  برج اور تھنل  مطلب سرنگ کی تعمیر  مکمل کرنے میں کامیاب ہو گی ہے

 یہ برج نارتھ ناروے کے  کرسچن سند سے مودلے اور  بعد ازین  نارتھ  ایر لیڈ اور دوسرے  یورپی ایس لینڈ تک پہنچ گیا ہے

ناروے کا یہ سب سے بڑا تعمیراتی پروجیکٹ ڈنمارک کے بعد ہے ڈنمارک قبل ازین سویڈن اور  ڈنمارک کے مابین  بالٹک  واٹر  مطلب  سمندر پر برج   سرنگ تعمیر کرنے  میں کامیاب ہو چکا ہے

ڈنمارک اب جرمن  اور ڈنمارک کے مابین سمندر پر پل اور سرنگ تعمیر کرنے پر کام کر رہا ہے

دوسری جنگ عظیم میں جرمن کی  نازی افواج نے چند گھنٹے میں ناروے اور  ڈنمارک پر قبصہ کر لیا تھا جو  پانچ برس تک  جاری  رہا ہے

اس فوجی قبصہ کو کتم کروانے کے لہے ناروے اور ڈنمارک کے عوام کا بہت ہی بڑا کردار رہا ہے

ناروے میں پاکستان کے پہلے کونسلر جرنل مسٹر وسل کو نازی  افواج نے سزاءے  موت سنادی تھی جس روز وسل کو سزاءے موت دی جانا تھی  نازی افواج کی فرانس مین پیش  قدمی رک  گی تھی

 امریکہ اس  زمانہ میں اپنی افواج بدریعہ ہواءی جہازروں لے کر  یورپ پہنچا تھا امریکہ کا پہلی اور دوسری جنگ  عظیم میں بہت  بڑا کردار رہا ہے

 

نارتھ یورپی ریجن نورڈیکس بلاک کے ممالک ناروے سویڈن  گرین  لینڈ فری  اءی پر ڈنمارک کے رولز رہے ہیں

پہلے  سویڈن علحدہ ہوا اور ناروے  کا سویڈن کے ساتھ الحاق کر دیا گیا بعد ازیں ناروے  نے  ۱۹۰۵ میں  سویڈن سے ازادی  حاصل کر لی  اس ازادی کے  لہے ناروے کی پارلیمنٹ کے سیاستدانون نے بڑا کردار ادا کیا

  گرین لینڈ ہانس جزیزہ  ناروے کا  حصہ تھا

جب ناروے کا سویڈن کے ساتھ الحاق ہوا  تو ڈنمارک نے گرین لینڈ اپنے پاس رکھ  لیا اور ہانس جزیرہ بھی  گرین  لینڈ کے پاس چلا گیا

 گرین لینڈ بحیرہ اوقیانوس میں  میری دنیا کا سب سے بڑا ایس لینڈ ہے  جس کا  رقبہ3ملین مریع کلومیٹر ہے جو  دیش بھارت کے  رقبہ کے  برابر ہے

 ہانس  جزیرہ کا رقبہ1.1ملین مربع کلومیٹر ہے جو پاکستان کے رقبہ سے   پچاس فیصد زیادہ ہے

گرین لینڈ کی ابادی ساٹھ ہزار کے قریب ہے اور اس کی  ڈنمارک 179رکنی فلکے تھنگ پارلیمنٹ میں  دو نشتیں ہیں دو فری  اءی کی ہیں

اور 175ڈنمارک کی ہیں جس کی ابادی5.2ملین سے زاہد ہے

 

یورپی  اقوام اپس میں لڑتی رہی ہیں ڈنمارک اور سویڈن کے مابین جنگیں لڑی گی ہیں سویڈن اور ناروے کے مابین بھی جنگیں ہوءی ہیں اور امن معاہدے بھی طے ہوتے رہے

ڈنمارک اور ناروے  کے مابین تعلقات کشیدہ بھی رہے ہیں 1970 کی دھاءی میں گرین لینڈ کے تھولے ایر بیس سے امریکہ کے  اٹیمی اسلحہ سے لیس جنگی طیارے نارتھ  ناروے کے بودے ایر بیس پر اتے  اور جاتے رہے یہ وہ زمانہ تھا جب ناروے مین کرسچن  جماعت کرستلے فلکے  کے پھیر بیٹن کی سرکار تھی

اور ان کے ڈیفنس منسٹر کو معلوم نہی کہ امریکہ کے جنگی طیارے اٹیمی اسلحہ سے لیس ناروے اتے  اور  جاتے رہے

  امریکہ کے اٹیمی اسلحہ سے لیس جنگی طیارون کو گرین لینڈ کے تھولے ایر بیس پر1970 کی دھاءی میں حادثہ بھی پیش ایا اس حادثہ میں ڈھاءی  ہزار افراد  ہلاک ہو گے تھے

 گرین لینڈ کے متاثرین کو امریکہ نے کوءی  ہرجانہ   بھی نہ دیا اور  مقدمات ڈنمارک کی کورٹس میں  طوہل عرصہ چلتے رہے

چونکہ عدلیہ سرکار کے  زیر کنٹرول تھی  اور سیاسدان عدلیہ کی ازادی کے لہے کام کرتے رہے

ڈنمارک دنیا   کی وہ ریاست ہے جس کی  عدلیہ  اب  خود  مختار ہے اسے یہ  خود مختاری یکم  جنوری1999 کو ملی تھی  عدلیہ کی  خود مختاری کےبعد اس نے سرد کیسز کے فیصلے بھی دءے لیکن محمد کیس پر  اس عدلیہ نے کوءی بڑا کردار ادانہ کیا

 محمد دھرم اسلام کے بانی پیغمبر کانام ہے اور محمد کیس ڈنمارک کی کورٹس میں چلتارہا ہے جسکا تعلق  محمد کے بارہ  تصویری  خاکون سے تھا

محمد کے   خاکوں کی اشاعت کے بعد  سے محمد کے بہت سارے طرفدار ڈنمارک اور یورپ کی جیلون میں بند ہیں

 

ناٹو

یورپی ممالک کی افواج ہے جس مین ستاہیس رکن ممالک شامل  ہیں امریکہ کنیڈا بحیرہ اوقیانوس کے ایک طرف اور باقی ۲۵ ممالک   یورپ میں واقع ہیں

 ناٹو کا فوجی  عہدہ امریکہ کے پاس اور سیاسی عہدہ یورپ کے پاس ہے اور اس وقت ڈنمارک کے سابق  پراءم منسٹر اندرس فوگ راسموسن ناٹو کے سیکرٹری جرنل ہیں

Nato States

مزید انفارمیشن کے لہے اوپر کے لینک کو کلک کریں

 

یورپی یونین

براعظم یورپ کے ستاہیس  رکن ممالک پر مشتمل

Comprses

  گوریمنٹ ہے جس کاکیپٹل برسلز ہے جو بلجیم کا کیپٹل ہونے کے ساتھ ساتھ راہیل  ناٹو کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے

یورپی کمشن یورپی یونین کی ایڈمنسٹریشن ہے

   یورپی پارلیمنٹ

یورپی  یونین کے رکن ممالک  کی پارلیمنٹ کا نام ہے

یورپی پارلمینٹ میں سیاسی گروپس کی تعداد ۸ چل رہی ہے

  یورپی کونسل

یورپی ممالک کا ایک  کلب ہے  جس میں روس سمیت   پنتالیس رکن  ممالک  ہیں پہلے اس کلب کارکن بنایاجاتا ہے اور پھر دیکھاجاتا ہے کہ یہ یورپی  یونین کے لہے  کیسا  ہے اسے   یونین میں شامل کیا جاءے یا نہ

نورڈیکس کونسل

نارتھ ایسٹرن ممالک کا کلب ہے جس میں ڈنمارک  سویڈن ناروے  فن لینڈ ایس لینڈ گرین لینڈ فری اءی شامل ہیں

 

یورپ کا رقبہ  ابادی

Countries and dependencies

Country Population density
(/km2)
Area
(km2)
Population
Population density, area and population of countries and dependencies in Europe (2002-07-01 est.)

Monaco Monaco

16,000

2

31,987

Gibraltar Gibraltar (UK)

5,000

6

27,714

Vatican City Vatican City

2,000

0.44

900

Malta Malta

1,260

316

397,499

Guernsey Guernsey (UK)

830

78

64,587

Jersey Jersey (UK)

774

116

89,775

San Marino San Marino

455

61

27,730

Netherlands Netherlands

393

41,526

16,741,400

Belgium Belgium

337

30,510

10,274,595

United Kingdom United Kingdom

244

244,820

60,587,000

Germany Germany

233

357,021

82,217,800

Liechtenstein Liechtenstein

205

160

32,842

Italy Italy

192

301,230

59,715,625

Switzerland Switzerland

177

41,290

7,301,994

Luxembourg Luxembourg

173

2,586

512,000

Turkey Turkey

91

783,562

70,000,987

Andorra Andorra

146

468

68,403

Moldova Moldova

131

33,843

4,434,547

Czech Republic Czech Republic

130

78,866

10,674,947

Isle of Man Isle of Man (UK)

129

572

73,873

Denmark Denmark

125

43,094

5,368,854

Poland Poland

124

312,685

38,625,478

Albania Albania

123

28,748

3,544,841

Cyprus Cyprus

117

9,248

803,147

Slovakia Slovakia

111

48,845

5,422,366

France France

111

547,030

63,601,002

Portugal Portugal

109

92,391

10,617,192

Armenia Armenia

108

29,743

3,262,200

Hungary Hungary

108

93,030

10,075,034

Serbia Serbia

100

88,474

7,780,000

Austria Austria

97

83,858

8,169,929

Slovenia Slovenia

95

20,273

2,048,847

Romania Romania

94

238,391

22,303,552

Spain Spain

88

505,782

46,777,373

Greece Greece

81

131,940

11,606,813

Republic of Macedonia Macedonia

81

25,713

2,054,800

Ukraine Ukraine

76

603,700

45,396,470

Croatia Croatia

78

56,542

4,490,751

Bosnia and Herzegovina Bosnia and Herzegovina

78

51,129

3,964,388

Georgia (country) Georgia

71

69,700

4,960,951

Bulgaria Bulgaria

69

110,910

7,621,337

Republic of Ireland Ireland

60

70,280

4,234,925

Lithuania Lithuania

55

65,200

3,601,138

Belarus Belarus

50

207,600

10,335,382

Latvia Latvia

37

64,589

2,366,515

Montenegro Montenegro

48

13,812

626,000

Faroe Islands Faroe Islands (Denmark)

33

1,399

46,011

Estonia Estonia

31

45,226

1,415,681

Sweden Sweden

20

449,964

9,076,744

Finland Finland

16

338,445

5,302,545

Norway Norway

15

323,802

4,942,700

Russia Russia

8.4

17,075,200

142,008,838

Kazakhstan Kazakhstan

6

2,727,300

16,400,000

Iceland Iceland

2.8

103,000

312,384

Total

31.56

26,680,676

842,033,572

[edit]De facto independent, breakaway and disputed states

De Facto Independent/Breakaway/Disputed State Former/Disputed Sovereign Power Population Density
(/km2)
Area
(km2)
Population
Population density, area and population of De Facto Independent/Breakaway/Disputed states from/of other European countries (Data sourced from relevant Wikipedia pages)

Republic of Kosovo Kosovo

Serbia Serbia

220

10,908

1,804,838

Transnistria Transnistria

Moldova Moldova

133

4,163

537,000

Northern Cyprus North Cyprus

Cyprus Cyprus

78

3,355

285,356

Abkhazia Abkhazia

Georgia (country) Georgia

29

8,432

242,862

South Ossetia South Ossetia

Georgia (country) Georgia

18

3,900

72,000

Nagorno-Karabakh Republic Nagorno-Karabakh

Azerbaijan Azerbaijan

12

11,458

141,400

 

پاکستان ایک بہت ہی

مشکل دور سے گزر رہا ہے

ایک طرف اس ریاست پر امریکہ یورپ کاسیکورٹی کونسل کے نام پر دباو چل رہاہےاور دوری طرف  اس ریاست کے  اسلامی لوگ خود کش حملے کر رہے ہیں یہ  ایک بہت ہی خطرناک صورتحال ہے

 افواج پولیس مشکلات کا شکارہے اور عسکری حملوں میں ناکام ہو گی تو اس ریاست میں قانون  ختم لوٹ مار کے ایک  دور کا اغاز ہو جاءے گا

قیام امن کی کوءی بھی امید نہی ہے جب تک  امریکہ یورپ کے پاس لکشمی ہے جنگ چلتی رہے گی

 جب  امریکہ یورپ کا خزانہ  خالی ہو گیا  محمد کے اسلحہ بردار ون کے دور کااغازہوجاءے

لیکن اس دور کے انےمیں ابھی بہت لمبا  عرصہ ہے

روس کے  لیڈر  ولادی میر پوتن اس بات کے  حق میں ہیں

 کہ عالمی سیاست کاتوازن امریکہ یورپ کے حق میں ہی رہنا چاہے یہ ارتھوڈیکس کرسچن ہیں

 لیکن قران کے پیغمبر محمد کے اسلحہ برداروں کی  سوچ مغرب سے مشرق کی طرف عالمی توازن کو منتقل کرنے پر ہے

 اور ان کو امریکہ  یورپ دشت گرد پکارتے ہیں چونکہ ان کی   سیاست امریکہ یورپ کی سوچ  کے خلاف ہے

اگر محمد کےاسلحہ بردارامریکہ یورپ کی  عالمی سیاست سے اتفاق کر لیں تو چوبیس گھنٹے کے اندراندر یہ سب  دشت گرد امریکہ یورپ کی نظر میں   مجاہدین  اسلام  ہو جاہیں گے

دشت گردی کے نام پر جو اس وقت جنگ جاری ہے اس کی یہ   ایک  عالمی تصویر ہے

 

 

 

 

 

 

 

تپ دق ویکسین تجرباتی مراحل میں

عالمی ادارہ ِ صحت نے حال ہی میں ایسے69 ملکوں کی فہرست مرتب ہے جہاں ٹی بی کے ایسے مریض پائے جاتے ہیں جن پر دوا اثر نہیں کرتی۔ اس کی وجہ ایسا بیکیڑیا ہے جو انسان میں تپ ِ دق کی ادویات کے لیے مدافعت پیدا کرتا ہے۔ عالمی ادارہ ِ صحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال25 ہزار افراد اس مسئلے کا شکار  ہوتے ہیں۔
  عالمی ادارہ ِ صحت کی سربراہ  ڈاکٹر مارگریٹ چن کہتی ہیں کہ اس مسئلے کا فوری حل ڈھونڈنا ناگزیرہے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ تر چین اور بھارت جیسے ملکوں کے لوگ اس مسئلے کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔  جس کی ایک وجہ وہاں پر مریضوں میں مرض کی درست تشخیص کا نہ ہونا یا پھر علاج کے لیے غلط دوائیں دینا ہے۔
ڈاکٹر نیرج مستری ، صحت ِ عامہ کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بھارت میں بہت کم ڈاکٹر ایسے ہیں جو ٹی بی کے مریضوں کو درست ادویات دے رہے ہیں۔ان کا کہناہے کہ اگر ہم مریضوں کو غلط دوادیں گے  اور مرض کی درست تشخیص نہیں کریں گے تو ہمیں ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ٹی بی  کی دوا کے خلاف مریضوں میں پیدا ہونے والی قوت ِ مدافعت کی وجہ سے کسی نئی اور موثر دوا کی اہمیت ناگزیر ہو گئی ہے۔
جبکہ تب ِ دق سے بچاؤ کے لیے ویکسین کا استعمال بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

 ڈاکٹر این گنز برگ ، ٹی بی سے متعلق ایک ادارے سے منسلک ہیں۔ اور ٹی بی سے بچاؤ کے لیے ایک ویکسین پر کام کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں امید ہے کہ 2020ء تک یہ ویکسین تیار ہو جائے گی۔

ان کا کہناہے کہ ٹی بی کے لیے ویکسین کی تیاری ایک طویل اور وقت طلب مرحلہ ہے۔ اس کی وجہ اس بیماری کی پیچیدہ نوعیت ہے۔ عموما لوگوں کو ٹی بی ہو جاتی ہے اور وہ برسوں تک  بیمار نہیں پڑتے ۔ اسی لیے اس کی دوا بنانے کےلیے اور لوگوں پر تجربہ کرنے کے لیے بہت وقت چاہیئے۔

بی کے لیے نئی ویکسین کا انتظار بہت طویل اور صبر آزما ثابت ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ ِ صحت کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ ٹی بی کے مریضوں کے لیے اس سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع تک ایک نئی اور مؤثر دوا سامنے لائی جا سکے۔

 

 

ابتدائی انسان نے افریقہ سے عرب ہجرت کی تھی: تحقیق

قبل ازیں اس مفروضے کے حق میں بہت کم سائنسی شواہد دستیاب تھے کہ زمانہ قدیم کے انسان نے پہلے پہل جو طویل سفر کیا وہ بحرِ احمر پار کرکے جنوبی عرب کے علاقے کی جانب تھا

ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دنیا کے ابتدائی انسانوں نے قرنِ افریقہ سے عرب علاقے کی جانب ہجرت کی تھی۔ اس سے قبل پیش کیے گئے بعض نظریات میں دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ انسان کے پہلے سفر کی منزل شمالی افریقہ یا مشرقِ قریب کے علاقے تھے۔

سائنس دانوں کے ایک وسیع حلقے میں اس مسئلے پر خاصی بحث ہوتی آئی ہے کہ زمانہ قدیم کے انسان نے دنیا کے طول و عرض میں آباد ہونے سے قبل کس مقام کو اپنی جائے قرار بنایا تھا۔

قبل ازیں اس مفروضے کے حق میں بہت کم سائنسی شواہد دستیاب تھے کہ زمانہ قدیم  کے انسان نے پہلے پہل  جو طویل سفر کیا وہ بحرِ احمر پار کرکے جنوبی عرب کے علاقے کی جانب تھا۔

لیکن اب حال ہی میں یورپی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے  کہ انہوں نے  60 ہزار برس قبل موجود ان انسانوں  کی تین ابتدائی شاخوں کا مطالعہ کیا ہے جنہوں نے پہلے پہل افریقہ سے باہر کی دنیا کا سفر اختیار کیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ عرب علاقے اور مشرقِ قریب میں ابتدائی زمانے  میں بسنے والے افراد کے 'ڈی این اے' کے تقابل سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عرب علاقے میں بسنے والے افراد کا قدیم آبائی تعلق افریقہ سے تھا۔

یہ نئی تحقیق برطانیہ کی 'یونیورسٹی آف لیڈز' اور پرتگال کی 'یونی ورسٹی آف پورٹو' سے منسلک محققین کی سربراہی میں کی گئی ہے جسے امریکہ کے 'جرنل آف ہیومن جینٹکس' نے شائع کیا ہے۔

 

 

 

روسی صدر پر مسٹر پوٹن کی حمایت سے ہچکچانے کا الزام

وزیر اعظم ولادی میر پوٹن  کی صدارتی انتخابی مہم کے سربراہ نے روس کے صدر دیمتری میدویدیف پر الزام لگایا ہے کہ وہ مسٹر پوٹن کی  صدارتی کی تاریخی تیسری مدت کی حمایت کرنے  میں ناکام رہے ہیں۔

جمعے کے روز اخبار روزمامہ از وستیا میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں سٹینس لاف گوورکن نے ، جو ایک قانون ساز  اور مشہور فلم ڈائریکٹر ہیں ہیں، الزام لگایا کہ مسٹر میدویدیف  ، مسٹر پوٹن کی انتخابی مہم سے فاصلہ قائم کررہے ہیں۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ مسٹر میدویدیف کو اس شخص کی زیادہ مؤثر طورپر حمایت کرنی چاہیے جس نے انہیں صدارت کے لیے نامزد کیا تھا۔

وزیر اعظم کے ترجمان  دیمتری پسکوف نے گوروکن کے بیان پر اپنے تبصرے میں کہا کہ سبکدوش ہونے والے صدر ، مسٹر پوٹن کو اس عہدے کے لیے  نامزد کرکے ان کی غیر معمولی حمایت کرچکے ہیں۔

صدر میدویدیف  اس نکتہ چینی کی ہدف بنے ہوئے ہیں کہ وہ مارچ کے صدراتی انتخاب میں  مسٹر پوٹن کی فتح کو یقینی بنانے کے لیے محض ایک مدت پوری کرنے کے بعد اپناعہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

وہ یہ کہہ چکے ہیں کہ مسٹر پوٹن زیادہ پسند یدہ ہیں اور یہ کہ سیاست میں ان دونوں کے نظریات ایک جیسے ہیں۔ چنانچہ ان کے پاس ایسا کوئی پہلو نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ مسٹر پوٹن کا انتخاب میں  مقابلہ کریں ۔

دسمبر کے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے ان الزامات کی بنا پر کہ الیکشن میں  مسٹر پوٹن کی یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے حق میں جعل سازی  ہوئی تھی ،روس میں بڑے پیمانے کے احتجاجی مظاہرے ہوتے رہے ہیں ۔

 

 

 

بھارت: پولنگ اسٹیشن پر حملہ، پانچ افراد ہلاک

 شمال مشرقی بھارت  میں عسکریت پسندوں نے ایک پولنگ اسٹیشن پر پانچ لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
 عہدےداروں نے کہاہے کہ  ہفتے کے روز ریاست منی پور  کے ضلع چندل میں باغیوں نے حملہ کرکے  ایک عورت   ، الیکشن ڈیوٹی کے عملے کے تین اہلکاروں  اور ایک فوجی کو ہلاک کر دیا۔

 خبروں کے مطابق عسکریت پسندوں نےمقامی  اسمبلی کے ایک نئے انتخاب کے موقع پر ایک پولنگ اسٹیشن پر دھاوا بولا۔

  یہ حملہ اس کے باوجود ہوا کہ حملوں کے امکان کے پیش نظر علاقے میں سیکیورٹی کے سخت تر انتظامات کیے گئے تھے ۔

 

 

شام پر سلامتی کونسل کی قرارد ناقابل قبول ہے: روس

روس نےکہا ہے کہ شام پر یورپ اور عرب ارکان کی قرار داد کا جو مسودہ جمعے کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔ لیکن ماسکو اس پر بات چیت  کے لیے تیار ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر وٹیلی چرکن  نے کہا کہ مسودے کے  متن میں،  اسلحے کی کسی بھی قسم کی پابندی کے نفاذ سمیت، ماسکو کے انتباہ میں جن پہلوؤں سے روکا گیا تھا، اسے  نظر انداز کیا گیا ہے ۔

 قرار داد عرب لیگ کے اس منصوبے کی حمایت کرتی ہے جس میں صدر بشار الاسد  سے اقتدار کسی نائب کوسونپنے اور انتخابات کی تیاری کے لیے ایک  متحدہ قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیاگیاہے ۔

 اگلے منگل کوعرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العرابی اور قطر کے وزیراعظم پندرہ رکنی سلامتی کونسل کو شام میں عرب لیگ کے ایک ماہ  پر محیط  مانیٹرنگ مشن  پر بریف کریں گے۔ اس مشن کو  شام میں اپنے قیام کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

یہ توقع بھی ہے کہ سلامتی کونسل میں  اگلے ہفتے    یہ قرارداد باضابطہ طور پر  پیش کردی جائے گی جس کے بعد اس پر جلد ہی ووٹنگ کی توقع  کی جارہی ہے۔

  ایک اور خبر کے مطابق   شام میں جمعے کے روز تشدد میں اضافہ ہوا  اور حالیہ  دنوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70سے تجاوز کر گئی ہے

 سر گرم کارکنوں نے کہنا ہے کہ فورسز  نے جمعے کے روز ملک بھر میں اپنی کارروائیوں کے دوران 37 سے زیادہ افراد ٕ کو ہلا ک کر دیا ۔

 شام کے ایک سر گرم کارکن رامی عبدالرحمان نے وی او اے کو بتایا کہ شمال مغربی شہر ادلیب میں ایک کار  بم دھماکے میں سیکیورٹی فورسزکے  چھ اہلکار بھی ہلاک ہوئے ۔صدر  اسد کی حامی فورسز کے باے میں  یہ اطلاع  بھی ملی ہے کہ انہوں نےحمص شہر میں اچانک دھاوا بولا۔

 شام میں عرب لیگ کے مبصر مشن نے جمعے کے روز کہا کہ عینی شاہدین کے مطابق منگل سے حمص ، حماء  اور ادلیب  میں پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

 

 

روس: حزب اختلاف کے لیڈر پر انتخابی پابندی

روسی عہدے داروں نے حزب اختلاف کے اعتدال پسند راہنما گریگوری یاولنسکی  کے رجسٹریشن فارموں پر مبینہ اعتراضات لگا کر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگادی ہے۔

یاولنسکی وزیر اعظم ولادی میر پوٹن کے خلاف الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرچکے ہیں۔

جمعے کےروز سینٹرل الیکشن کمیشن نے کہا کہ مسٹر  یاولنسکی   کی امیدواری کی تائید  کے لیے جمع کیے گئے تقریباً 25 فیصد دستخط غیرمستند تھے ۔
یابلوکو پارٹی کے راہنما یاولنسکی   نے کہا ہے کہ سرکاری اہل کاروں نے انہیں الیکشن سے روکنے کی پابندی اس لیے لگائی ہے تاکہ برسراقتدار حکمران ٹولے اور خاص طور پر صدارتی الیکشن کے لیے حالات اپنے حق میں انتہائی سازگار بنائے جاسکیں۔

 

 

مشرق وسطیٰ میں ایک متحرک امریکی بحری فوجی اڈے کا منصوبہ

میڈیاکی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی  فوج مشرق وسطیٰ میں، جہاں ایران کے ساتھ تعلقات  کشیدہ ہیں اور دوسرے ملک سیاسی مشکلات میں گھرے  ہوئے ہیں،  کمانڈوز فورس کا ایک ایسا فوجی اڈا بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے ضرورت کے وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجا جاسکے۔

 ہفتے کےر وز واشنگٹن پوسٹ نے امریکی بحریہ کی دستاویزات کے حوالے سے،   جن کی خصوصی طورپر نشاندہی نہیں کی گئی ، لکھا ہے  کہ امریکی  فوج ایک پرانے جنگی جہاز کو مدر شپ کے نام سے، کمانڈوز کے لیے ایک تیرتے ہوئے فوجی مرکز میں ڈھالنے کا ارادہ رکھتی ہے

بحریہ کے ایک ترجمان نےاس منصوبے  یا اس سے منسلک  یہ تفصیلات  بتانے  سے انکار کر دیا کہ  مدر شپ کو مشرق وسطیٰ میں کہاں متعین کیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بحری جنگی جہاز  کو خلیج فارس میں بھیجا جا سکتا ہے،  جہاں   ایران آبنائے ہرمز میں  تیل کی اہم رسدی گزر گاہوں کو بند  کرنے کی دھمکی دے چکا ہے ۔

امریکی بحریہ  کے دوسرے عہدے داروں نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ پینٹا گان توقع ہے کہ بحری جنگی جہاز کو فوجی مرکز میں تبدیلی کا عمل مکمل کرکے اسے  سال کے آخر تک مذکورہ  علاقے میں بھیج دے گا۔

 

 

شام میں عرب لیگ کا مبصر مشن معطل

عرب لیگ نے  کہاہے کہ وہ شام میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد  وہاں اپنا مبصر مشن معطل کر رہا ہے ۔  لیکن ہفتے کے روز لیگ کے عہدے داروں نے کہا کہ لیگ کے معائنہ کار  اگلے کسی حکم   تک شام میں موجود  رہیں گے۔

عرب لیگ کا نگران مشن  گذشتہ ایک ماہ سے شام میں مقیم ہے تاکہ وہ یہ جائزہ لے سکے کہ شام کے عہدے دار حکومت مخالف کے خلاف پرتشدد کارروائیاں روکنے کے سلسلے میں عرب لیگ کے منصوبے پر کس حد تک عمل کررہے ہیں ۔

عرب لیگ نے حال ہی میں ایک اور منصوبہ پیش کیا ہے جس میں بشا ر الاسد سے اقتدار کسی نائب کو سونپنے  اور انتخابات کی تیاری کے لیے کسی متحدہ قومی حکومت کی تشکیل دینے کے لیے کہا  گیا ہے ۔  

حالیہ دنوں میں  شام میں 70 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ سر گرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی فورسز نے جمعے کے روز حملوں میں 37 سے زیادہ لوگ ہلاک کر دیے ۔

 

 

برما: جمہوری اصلاحات جلد مکمل کرنے کا وعدہ

برما کے ایک اعلی عہدے دار نے  بین الاقوامی برادری  سے کہا ہے کہ ان کے ملک کی حکومت نے، جسے فوج کی حمایت حاصل ہے، ابھی جمہوری اصلاحات کے نفاذ  کا کام مکمل نہیں کیاہے ۔
وزیر تجارت یو سو تھین   نے ہفتے کےر وز خبر رساں ادارے روئیٹر  کو بتایا کہ اصلاحات کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برما کی حکومت  مزید سیاسی تبدیلیوں اور  اقتصادی شعبے میں اصلاحا ت کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔     

وزیر تجارت نے یہ بیان  سوئٹزر لینڈ کے شہر  ڈیوس میں دیا  جہاں وہ عالمی اقتصادی فورم میں  برما کے پہلے سرکاری وفد کی قیادت کر رہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ برما  سرمایہ کاری  کے لیے سازگار ماحول تشکیل دینے اور چین ، امریکہ اور یورپی یونین سمیت  ، تھائی لینڈ ، بنگلہ دیش ، بھارت اور لاؤس جیسے پڑوسیوں کی توجہ اپنے ملک کی جانب مبذول کرانے  کی کوششیں کر رہا ہے ۔  

نوبیل انعام یافتہ شخصیت اور حزب اختلاف کی لیڈر  آن سان سوچی بھی  مندوبین سے ویڈیو  لنک کے خطاب کے ذریعے   کانفرنس میں شامل ہوئیں ۔

انہوں نے ڈیوس میں برما کے وزیر تجارت کی موجوددگی کو ایک مثبت علامت قرار دیا لیکن انہوں نےیہ بھی کہا کہ برما  ابھی تک تبدیلی کے کسی بڑے مرحلے میں داخل نہیں ہوا ہے

 

 

2014ء تک افغانستان میں برطانوی فوجی موجودگی قائم رہے گی: ڈیوڈ کیمرون

برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں 2014 تک اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا۔
  برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ہفتے کےر وز نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کا اپنے ملک کے فوجیوں کو موجودہ ڈیڈ لائن کے اختتام سے قبل افغانستان سے واپس بلانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔

 انہوں نے یہ بھی کہاکہ برطانیہ کابل کے ساتھ مضبوط تعلقات  برقرار  رکھنا چاہتا ہے  کیوں کہ دہشت گردی سے پاک  ایک محفوظ اور مستحکم افغانستان  کا وجود  پوری دنیا کے مفاد میں ہے

مسٹر کیمرون نےیہ بیان  لندن سے باہر افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات کے بعد دیا۔ برطانوی لیڈر نے کہا کہ ان کا ملک افغانستان کو 2014ءمیں اپنے فوجیو ں کے انخلا ءکے بعد بھی امداد کی فراہمی  جاری رکھے گا۔

 ان  کا نقطہ نظر فرانس کے صدر نکولا سارکوزی سے مختلف تھا جنہوں نے جمعے کے روز مسٹر کرزئی سے ملاقات کی تھی۔ مسٹر سارکوزی نے کہا تھا کہ فرانسیسی فوج نیٹو مشن کے پروگرام کے ایک سال قبل  2013ءمیں   افغانستان سے چلی جائے گی۔  

فرانسیسی صدر نے یہ بھی کہا کہ فرانس مارچ میں مشرقی صوبے کپیسا کی سیکیورٹی افغانوں کے حوالے کر دے گا ۔

فرانس کے زیادہ ترفوجی دستے اسی صوبے میں  تعینات ہیں  اور اسی صوبے میں  گزشتہ ہفتے چار غیر مسلح فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

مسٹر کرزئی نے کہا کہ گذشتہ ہفتے کے دوران فرانس اور دوسرے ملکوں سے مدد کے بعد اب افغانستان   مزید ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہے ۔
 

 

 

 

پاکستان بھارت: گرفتار ماہی گیروں کو رہا کیا جائے

بھارت اور پاکستان کے چار سابق ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیٹی نے بھارت کی مختلف جیلوں کا دورہ کرنے کےبعد سفارش کی ہے کہ دونوں ملکوں کے جو ماہی گیر بلا ارادہ آبی سرحد عبور کرکے دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہو جائیں،  اُن کو اُن کی کشتیوں کے ساتھ بحری راستے سے واپس بھیج دیا جائے۔

کمیٹی نے گذشتہ سال دونوں ملکوں کے مابین ہونے والے سکریٹری داخلہ سطح کے مذاکرات کی توسیخ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا ارادہ زمینی سرحدوں کو عبور کرنے والوں کی مانند بلا ارادہ آبی حدود کو عبور کرنے والوں کو بھی رہا کرنے کا طریقہٴ کار وضع کیا جانا چاہیئے۔

کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ جِن بیمار قیدیوں کی حالت نازک ہو اور جو قیدی ذہنی معذور ہوں، اُن کو اسپتالوں میں رکھا جانا چاہیئے، خواہ اُن کی شہریت کی تصدیق ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔

تاہم، اُس نے دونوں ملکوں کے مابین مئی 2008ء میں ہونے والے قیدیوں تک حکام کی رسائی کے معاہدے پر مکمل نفاذ نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گرفتاری کے تین ماہ کے اندر ’کونسلر ایکسیس‘ کی سہولت دی جائے اور سزاؤں کی تکمیل اور شہریت کی تصدیق کے ایک ماہ کے اندر اُنھیں اُن کے ملک واپس بھیج دیا جائے۔

کمیٹی کے ارکان نے تہاڑ جیل نئی دہلی،  سینٹرل جیل جے پور اور سینٹرل جیل امرتسر کا دورہ کیا،  جہاں اُن کے سامنے علی الترتیب 46، 96اور 45پاکستانی قیدی پیش کیے گئے۔

یہ کمیٹی پاکستان سے دو سابق ججوں جسٹس ناصر عالم زاہد اور جسٹس میاں محمد اجمل اور بھارت سے جسٹس اے ایس گِل اور جسٹس ایم اے خان پر مشتمل تھی۔

 

 

سیاست میں سرمائے کا عمل دخل روکنے پر سرمایہ کاری کی جائے: صدر اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کانگریس سے تعطل ختم کرنے کی  اپیل کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ ایسے قوانین منظور کریں جن کی مدد سے سیاست میں سرمائے کے اثرورسوخ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنے میں مدد مل سکے۔

ہفتے کے روز ا پنے ہفتہ وار خطاب میں مسٹر اوباما نے کہاکہ کانگریس کے ارکان ججوں اور پبلک سروس  کے عہدوں کے لیے ان کی  نامزدگیوں پر رکاوٹوں کھڑی کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام تعطل اور کھیل تماشوں کی بجائے بہتر صورت حال کے مستحق  ہیں اور انہوں نے کانگریس سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسا قانون منظور کریں جس سے ووٹنگ کے ذریعے  نامزد کردہ افراد  کے حق یا مخالفت کا فیصلہ 90 روز کے اندر ہوجائے۔

مسٹر اوباما نے ایک ایسی قانون سازی کی بھی اپیل کی جس کے ذریعے منتخب عہدے داروں کے مارکیٹ پر اثر ورسوخ روکنے کے لیے ان  پر صنعتوں کے اسٹاک کی خرید پر پابندی عائد کی جاسکے۔

  انہوں نے کہا کہ ان لوگوں پر بھی پابندی لگائی جائے جو  کانگریس کے لیے لابی کرنے والے ارکان سے انتخابی مہم کے لیے عطیات وصول کرتے ہیں۔

صدر نے کہا کہ یہ  واشنگٹن کے راہنماؤں کے لیے مناسب وقت ہے کہ وہ حقیقی مسائل کے حل کی جانب توجہ دیں ، مثال کے طور پرمعاشی صورت حال کو بہتر بنانے سے متعلق۔

 

 

افغانستان کے مستقبل کے بارے سابق اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی رائے

اقوامِ متحدہ کے تفویض کردہ اختیارات کے تحت کام کرنے والی 130,000 سپاہیوں پر مشتمل یہ فورس ’’انٹرنیشنل سکیورٹی اسسٹنس فورس‘ یا (ISAF) کہلاتی ہے۔ افغانستان میں نیٹو کے تین مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد تو صدر حامد کرزئی کی مدد کرنا ہے تا کہ وہ ملک میں تعمیرِ نو کر سکیں اور اسے مستحکم کر سکیں۔ دوسرا مقصد افغان فوج اور پولیس کو تربیت دینا ہے اور تیسرا مشن یہ ہے کہ باغیوں کا پتہ چلایا جائے اور ان کا صفایا کر دیا جائے، خاص طور سے جنوبی افغانستان میں، جو طالبان کا گھر ہے۔

فوٹو ASSOCIATED PRESS

’’پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی جب ہم اس کی سیکیورٹی کا سب سے بڑا ذریعہ تھے اس کے ساتھ ہمارے تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔ ‘‘

2001 میں امریکہ  کی  زیرِ قیادت فوجوں نے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

امریکہ اور نیٹو کا ہدف یہ ہے کہ 2014 کے آخر تک جنگی  کارروائیاں افغان فورسز کے حوالے کر دی جائیں۔ لیکن اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سابق سفیر جان بولٹن کو  یقین نہیں کہ افغان سیکورٹی اور مسلح افواج  اس  ذمہ داری  کا بوجھ اٹھا سکیں گی۔ ’’میں نہیں سمجھتا کہ وہ  یہ ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہوں گی۔ لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کی تربیت میں کمی ہوگی یا ان کے پاس ضروری ساز و سامان نہیں ہو گا۔ میرے خیال میں  یہاں پالیسی میں ایک بنیادی نقص ہے۔ ہم افغانستان کو ایک ایسی مملکت سمجھ رہے ہیں جیسے وہ کہیں مغربی یورپ میں واقع ہو، جب کہ ایسا نہیں ہے۔ لہٰذا مسئلہ افغان حکومت  کی صلاحیت کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ طالبان اور القاعدہ کا خطرہ مسلسل موجود ہے۔ اور آثار ایسے ہیں کہ  یہ خطرہ باقی رہے گا چاہے کاغذ پر افغان حکومت  2014 یا 2015 میں کتنی ہی اہل کیوں نہ معلوم دیتی ہو‘‘۔

طالبان نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ قطر میں اپنا ایک سیاسی دفتر کھولیں گے۔ بعض ماہرین کہتے  ہیں کہ  اس کے نتیجے میں بالآخر  ابتدائی بات چیت شروع ہوگی اور پھر امن مذاکرات ہوں گے۔ لیکن قومی سلامتی کے سابق مشیر جنرل برینٹ سکوکرافٹ کہتے ہیں کہ ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیئے۔’’ہمارے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا بہت مشکل کام ہے۔ وہ ہمیں وہاں سے نکالنا چاہتے ہیں۔  لہٰذا ہم جس چیز پر بھی مذاکرات کریں، وہ کامیاب ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا سہارا نہ لیں اور القاعدہ کے لیے پناہ گاہ نہ بنیں۔ لیکن ہم جیسے ہی وہاں سے نکلیں گے ہمیں ان پر کوئی کنٹرول  نہیں رہے گا۔ لہٰذا یہ مذاکرات یکطرفہ رہیں گے‘‘۔

سابق وزیرِ دفاع ویلئیم کوہن کہتے ہیں کہ باغیوں  کے ساتھ  مذاکرات  کا انحصار اس بات پر ہوگا  کہ آپ طالبان کے کس دھڑے کی بات کر رہے ہیں۔ ’’اگر یہ وہ طالبان ہیں جو اپنے ہتھیار ڈالنے اور   پُر امن حل کے لیے  کام کرنے کو تیار ہیں تو ان سے  کم از کم بات ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں یہ کام بڑا مشکل ہو گا کیوں کہ  ماضی میں بہت سے لوگ طالبان کے ظلم و زیادتی کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ پھر اس دنیا میں واپس جانا نہیں چاہتے۔ لہٰذا  طالبان کے بارے میں لوگوں کا تاثر کیا ہے اور  ان کا رویہ کیا رہتا ہے اس کی روشنی میں ہی مستقبل میں  ان کے کسی رول کا تعین ہو سکتا ہے‘‘۔

بولٹن، کوہن اور اسکوکرافٹ کا خیال ہے کہ افغانستان  کے  تنازعے کی کسی بھی حل میں پاکستان کو شامل کیا جانا چاہیئے۔ جنرل اسکوکرافٹ کہتے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات  مستحکم کرنے کے لیے سخت محنت کرنی چاہیئے۔

’’پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی جب ہم اس کی سیکیورٹی کا سب سے بڑا ذریعہ تھے اس کے ساتھ  ہمارے تعلقات میں  نشیب و فراز آتے رہے ہیں۔  پاکستانیوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہم نے انہیں کئی بار  بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا انہیں امریکہ پر اعتماد کرنے میں بہت زیادہ تامل ہے۔ لیکن ایک ایسے علاقے کے قیام کے لیے جو ہماری  کم از کم ضروریات پوری  کرتا ہو ہمارے لیے  ایک نسبتاً مستحکم اور خوشحال پاکستان ضروری ہے‘‘۔

گذشتہ نومبر میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات اس وقت تیزی سے خراب ہو گئے جب نیٹو کے ایک حملے میں تقریباً دو درجن پاکستانی سپاہی ہلاک ہو گئے ۔ اسلام آباد نے اس کے رد عمل میں پاکستان سے افغانستان رسد بھیجنے کے تمام راستے بند کر دیے ۔ یہ راستے بدستور بند ہیں۔

 

 

 

 

مشرف کا پاکستان واپسی کا ارادہ ملتوی

سابق صدر نے اپنی جماعت کی اِن سفارشات سے اتفاق کیا ہے جِن میں اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق وطن واپس نہ جائیں: 'آل پاکستان مسلم لیگ' کے سیکریٹری جنرل کا بیان

Leaders and supporters of the political party All Pakistan Muslim League surround a screen broadcasting a speech by their party president Pervez Musharraf from Dubai via video link, in Karachi, January 8, 2012.

فوٹو Reuters

آٹھ جنوری کو جنرل(ر) پرویز مشرف نےدبئی سےٹیلی فون پرکراچی کےجلسے سے خطاب کیا

پاکستان کےسابق فوجی صدرجنرل (ر) پرویز مشرف نےملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال کے باعث وطن واپسی کا ارادہ ملتوی کردیا ہے۔

سابق صدر کی جماعت 'آل پاکستان مسلم لیگ' کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سیف نے جمعے کو دبئی میں صحافیوں کو بتایا کہ  سابق صدر نے اپنی جماعت کی اِن سفارشات سے اتفاق کیا ہے جِن میں اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق وطن واپس نہ جائیں۔

بیرسٹر سیف نے سابق صدر کو وطن واپسی سے گریز کا مشورہ دینے کی وجہ ملکی حالات  بتائے جہاں ان کے بقول حکومت اور سپریم کورٹ میں بظاہر کشیدگی پائی جاتی ہے۔

صدر مشرف 2008ء میں اپنے خلاف مقدمات سے بچنے کے لیے بیرونِ ملک چلے آئے تھے جس کے بعد سے وہ دبئی اور لندن میں خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مشرف نے حال ہی میں جنوری کے اختتامی ہفتے میں وطن واپسی کا اعلان کیا تھا تاہم پاکستانی حکام نے  خبردار کیا تھا کہ اگر وہ واپس آئے تو انہیں سابق وزیرِاعظم  اور موجودہ حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ بے نظر بھٹو کے قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا جائے گا۔

بے نظیر بھٹو کو صدر مشرف کے دورِ اقتدار میں دسمبر 2007ء میں اس وقت  قتل کردیا گیا تھا جب وہ ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد واپس جارہی تھیں۔

گوکہ صدر مشرف محترمہ بھٹو کے قتل کا الزام طالبان پر عائد کرتے ہیں۔ تاہم، استغاثہ کا موقف رہا ہے کہ اس واردات میں ان کا بھی کوئی کردار تھا۔

بیرسٹر سیف نے صحافیوں کو بتایا کہ پرویز مشرف نے وطن واپسی کا ارادہ ملتوی کردیا ہے تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی نئی تاریخ نہیں دی کہ سابق صدر دوبارہ کب وطن جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مشرف خود پریس کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔

 

 

ادویات اسکینڈل: ’کڑا احتساب ہوگا‘