اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تجویز سی این این کے ایک سابق نیوز ایڈیٹر ایوسن جورڈن اور ان کے پارٹنر اور مشنف رابرٹ پیلن نے پیش کی تھی۔ انہوں نے پھراس سلسے میں ’ایپفیکس ‘ نامی ویب سائٹ بھی قائم کی۔ رابرٹ پیلٹن جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں کتابیں لکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بعد میں ان کی جمع کردہ معلومات کا مائکل فرلونگ نے غلط استعمال کیا اور ’اس کو لوگوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘
ڈنمارک انٹرنیشنل پریسDenmark International Press
پاکستان
کے لوگون کی ایک بہت ہی بڑی تعداد
دھرم اسلام کے اسلحہ بردارون کی طرف دیکھ رہی ہے مطلب پاکستان کے لوگ محمد کے قران کی سرکار اور ان سیاساتدانون کی ڈیموکریسی سے نجات
چاہتے ہیں
پاکستان
کے لوگون کی ایک بہت ہی بڑی تعداد پاکستان کے سیاسی لوگوں سے نفرت کا اظہار کرتی ہے
اس کی اہم وجہ سیاستدانون کی بددیانتی کروپشن بےایمانی جھوٹے پولیس کیس بنانااور لوگون کو ڈرنا دھمکنا ہے
پاکستان
کے ڈسٹرک گجرات کی ۳ ملین سے زاہد ابادی میں ایک بھی سیاستدان ایماندار نہی ہے
اور ان کی سیاست ایک ہی جیسی چل رہی ہے
گجرات کے لوگون کی ایک تعداد اس گندگی پر مبنی سیاستدانون کی صفاءی چاہتی ہے
مطلب اہل قران اسلھہ بردارون کی طرف
دیکھ رہی ہے
ڈسٹرک گجرات کے بڑے بڑے سیاسی خاندانون کو لوگ مان بہین کی گندی گالیان دیتے ہیں
کاش گجرات کے یہ سیاسی خاندان اپنی سوچ کو تبدیل کریں
ورنہ گجرات میں اہل قران اسلحہ بردارون کی تحریک کا اغازہو سکتا ہے
گجرات کے سیاسی خاندانون سے عوام کی نفرت کی اہم وجہ ان کی کروپشن بے ایمانی زمینون پر قبصے کرنا جھوٹے پولیس کیس بنانا شامل ہیں
گجرات کے سب ڈویزن کھاریان کا مرالہ خاندان بے ایمانی کی ایک تازہ ترین تصویر ہے
جس نے انٹرنیشنل پریس کے جرنلسٹ جوگی جیلانی پر جھوٹااور بے بنیاد پولیس کیس بنایا
اور کھاریان کے سیشن جج نے مرالہ خاندان پر پولیس کیس بنا دیا ہوا ہے چونکہ انہون نے پولیس کے ساتھ مل کر جھوٹا مقدمہ جرنلسٹ پر بنایا اور یہ مقدمہ
کھاریان کی کورٹ مین شروع ہو رہا ہے
مرالہ خاندان کی حالت یون ہے کہ اس نے جرنلسٹ جوگی جیلانی سے میڈیا ان لاہن ہی چھین لی ہوءی ہےیہ کالی تصویر پاکستان کےسابق صدر فیصل الہی کی مرالہ فیملی کی ہے
یہ فیملی ان لاہن واپس کرنےپر تیار نہی ہےجس کی بناپر کورٹ مین ان کے خلاف مقدمہ کااغازہورہا ہے
مرالہ فیملی سیاست کی اڑ میں کھاریان شہر کے ایک نوجوان شعیب صادق کو استعمال کر کے لوگون کی زمینون پر قبصے کرتی ہے
اور جوگی جیلانی پر ۲۹ ستمبر ۲۰۰۹ کو ہوءے حملہ کا تعلق بھی زمین پر قبصہ کرنے سے تھا
مرالہ فیملی نے حملہ کے بعد پولیس کے ساتھ مل کر مقدمہ جوگی کے خلاف بنا دیا
جب اسلام اباد مین یورپی سفارت کارون کو معلوم ہوا تو انہون نے قانون دانون کی ٹیم کو کھاریان بھج کر مرالہ خاندان کے بناوٹی مقدمہ کا کورٹ مین راز فاش کر دیاجس کے بعد سیشن کورٹ نے مرالہ خاندان کے خلاف ایف اءی ار درج کرنے کا حکم پولیس کو دیا
کھاریان کورٹ مین پولیس ملازمین اور مرالہ فیملی کے خلاف اب کیس کا اغاز ہو رہا ہے
یہ پنجاب کے ڈسٹرک گجرات کے سیاسی لوگون کا کردار ہے
انٹرنیشنل جرنلسٹ جوگی جیلانی پر مرالہ خاندان نے حملہ کر کے اپنی عزت کو کم کر لیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہی کہ سابق صدر فصل الہی چوہدری کی عزت کم ہو گی ہے چونکہ فصل الہی چوہدری نے اپنی فیملی کو حملون کا پیغام نہی دیا تھا اور نہ ہی جراءم پیشہ افراد کواستعمال کر کے لوگون کی زمینون پر قبصے کرنے کا کہا تھا
نیوزی لینڈ انٹرنیشنل نیوزر سروس
NewZerland Int national newser service
Uptated On January11,2010
دامن کسی کا صاف نہی ہے
پاکستان کے سابق صدر فصل الہی چوہدری
کی مرالہ فیملی سے متعلق اشارہ دیاجا رہا ہے
کہ ان کے پاس جتنی بھی قیمتی گاڑیان وہ سب کی سب چوری کی ہیں
مرالہ فیملی کو کوءی بھی پوچھنےوالا نہی ہے
اگر کوءی ایکشن لے تو یہ اس قابل ہین کہ ان گاڑیون کے اصلی ہونے کے ثبوت پیش کر دیں
یہ ان کی روحانی کرامت ہے
پیری فقیری چھوڑو ان کے ہاتھ پر بیعت کرو
پاکستان کروپشن بے ایمانی مین تیر رہا ہے
سرکار کے ملازمین چوری کے مال کے اصلی ہونے کی تصدیق کرتے ہیں
مرالہ فیملی کا تو پوسٹر دیکھایا ہے
باقی گجرات کے سیاسی لوگ بھی کروپشن بےایمانی کے حمام مین نگے ہیں
چوری کے مال کے اصلی ہونے کی سرکار کے ملازمین جب تصدیق دیں تو وہ چوری کا مال نہی اصلی ہوتا ہے
مرالہ فیملی سمیت گجرات کے تمام سیاسی لوگون کا مال چوری کا نہی اصلی ہے
پاکستان اور
مرالہ فیملی زندہ باد
German Int national newser service
Berlin updated January 15,2010 kl 10.20
ہماری انٹرنیشنل نیوزر سروس کی نشریات کو دوسری زبانون مین بھی اپ تبدیل کر سکتے ہیں
کھاریان
کے مرالہ فیملی کے ثاقب بشیر ایڈوکیٹ کے خلاف کھاریان کی کورٹ مین مقدمہ کا اغاز ہو گیا ہے
ثاقب بشیر کی کھاریان شہر میں فراڈ کرنے لوگوں کی زمینوں پر قبصے کرنے اور جھوٹے پولیس کیس بنانے کی دوکان ہے
ثاقب بشیر مرالہ فیملی کے مسلم لیگ ق کے سابق رکن پارلیمنٹ رحمان نصیر کا بہنوءی ہے
Dated February 23,2010
کھاریاں شہر کے
ظفر جیور
سے
پاکستان کے سابق صدر
فصل الہی چوہدری
کی فیملی نے اس کا مکان ہی چھین لیا ہوا ہے
اور دھرم اسلام کا اللہ خاموش ہے
مرالہ خاندان نے اسے مارا پیٹا
اور اس کے خلاف کھاریان کے لوگون جھوٹا پولیس کیس بنا دیا
اور اسے ۳ ماہ تک جیل میں بند کروا دیا
ظفر جیور
اہل قران کے شہر کھاریان کا ایک غریب انسان ہے اور ان طاقت ور چوہدریون نے اس کے ساتھ ہر ظلم کیا ہے
کھاریان شہر
کے بہت سارے افراد ان مرالہ کے ظالم چوہدریون سے تنگ ہین
اور اسلام کے اللہ اپ ان کے ظلم سے اس شہر کے لوگون کؤ نجات دلا
زلزہ طوفان جلدی کر لے کر ا
مرالہ خاندان زندہ باد
Updated Dubai Gulf region dated 3.03.2010 Kl 15.11
ناروے
سے تعلق رکھے والے عالمی جرنلسٹ پر مرالہ خاندان کا حملہ
ان پر اللہ تعالی کا عذاب ہے
ان کی زیادیتیوں ظلم کابدلہ اس جرنلسٹ پر حملہ ہے
اللہ تعالی نے اس سیاسی خاندان کی انکھون پر پٹی باند دی
اور انہون نے لالچ مین ا کر اس پر حملہ کر دیا اس کے خلاف پولیس کیس زمین چھنینے کے لہے بنا دیا
اس کو ڈرانے دھماکے کی ہر کوشیش کی لیکن ناکامی اس سیاسی مرالہ خاندان کا مقدر ٹہری
یورپی پریس نے انکشاف کیا ہے
کہ کھاریان جو اج شہر ہے ایک وقت مین یہ دیہات تھا
اس دیہات میں ہندو سکھ مسلمان مل جل کر رہا کرتے تھے
ہندو کنوان اور تالاب تعمیر کروا دیا کترے تھے
کھاریاں شہر میں ۳ تالاب تھے دو پر مرالہ خاندان کا نجی قبصہ اور گرشن داس کے14کنال رقبہ پر مرالہ خاندان کے رحمداد سیکشن نے شہر کے لوگون کو چڑیا سمجھ کر قبصہ کر لیا ہوا ہے
گرش داس کا یہ تالاب کھاریاں شہر کی مقامی عید گاہ کے باکل ساتھ واقع ہے
اور اس تالاب کی تصویر بھی شایع ہونے والی ہے
رحمداد سابق صدر فصل الہی چوہدری کے بھاءی کا نام ہے
اور یہ رحمان نصیر کے دادا ہیں
مرالہ خاندان کا پہلا دور بھی سیاہ تھا دوسرا دور بدمعاشی لینڈ مافیا فراڈ کا چل رہا ہے
کھاریاں شہر اور سب ڈویزن کھاریان کے لوگ ان سے تنگ ہیںؓ اور قدرت نے ان کے سامنے ناروے کے کرسچن میڈیا کے عالمی جرنلسٹ کو لا کھڑا کیا ہے جو دنیابھر میں مقبول ہے
مرالہ خاندان نے اپنی سیاسی تباہی کا خود ہی انتظام کر لیا ہے اور اسلام کا اللہ تعالی ان سے نا خوش ہے
Sweden
Malmo
March 8,2010 uptaed Time Kl 12.46

جوگی جیلانی
یورپی ریجن کی کرسچن ریاست ناروے کے عالمی جرنلسٹ کا نام ہے
اور ان لاہن پر دنیا بھر کی ہر قوم میں اس جرنلسٹ کی نشریات مقبول ہیں
مرالہ خاندان جس کو پاکستان کے شہر کھاریان اور اس کے نواعی علاقون کے لوگ شرابی کہتے ہیں اس شرابی فیملی نے اس عالمی جرنلسٹ پر اہل قران کے شہر کھاریان میں گزشتہ برس29ستمبر کو اس پر حملہ کیا تھا
اور حملہ کے بعد پولیس مین مرالہ خاندان نے اس کے خلاف جھوٹا پولیس کیس بنا دیا کہ جوگی نے مرالہ خاندان پر حملہ کیا ہے جس کے بعد عالمی پریس نے جوگی کی حمایت کا اعلان دے دیا
Norway
Bergen March 8,2010 Updated Time Kl 14.18

سینٹ کی قائمہ کمیٹی کےتین اراکین نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے تفصیلی بریفنگ کے بعد کہا ہے کہ انہیں ایسے شواہد دکھائے گئے ہیں جس سےان کا خیال ہے کہ آسٹریلیا کے دورے کے دوران پاکستان کے ایک یا اس سے زیادہ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔
سینٹر عبدالغفار قریشی، سینٹر ہارون اختر خان اور سینیٹرطاہر مشہدی پر مشتمل ذیلی کمیٹی نے پیر کو لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ ایک طویل اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا کے دوران میچ فکسنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کی ٹیم ہاری۔ سینیٹر ہارون اختر کا کہنا تھا کہ ٹیم کے ایک سے زیادہ کھلاڑی مختلف قسم کی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔
ان سینٹررز نےکہا کہ انہیں جو شواہد دکھائے گئے ہیں وہ سابقہ نہیں بلکہ ٹیم کے موجودہ کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں۔
سینٹ کے اراکین کا کہنا تھا کہ وہ ان کھلاڑیوں کے نام نہیں لینا چاہتے کیونکہ ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے جا رہی ہے اور یہ وقت مناسب نہیں ہے کہ ان کا نام بتایا جائے۔ان سینٹرز کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس پر مزید شواہد اکٹھے کرنے چاہیں اور مزید تحقیقات سے اگر مکمل طور پر واضح ہو جائے تو ان کرکٹرز کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے۔ سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں پر ایک یا دو سال کی پابندی نہیں بلکہ قوم کو ان کی شکلیں بھی نظر نہیں آنی چاہیں۔
اس ذیلی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عبدالغفار قریشی نے کہا کہ میچ فکسنگ میں کھلاڑی ہی نہیں بلکہ باہر کے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ خرابی چاہے کھلاڑی میں ہے یا مینجنٹ میں اسے دور کرنا چاہیے۔
ان سینیٹرز نے کہا کہ انہوں نے پی سی بی کی انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پڑھی ہے اس میں یونس خان اور محمد یوسف پر کوئی طویل پابندی عائد نہیں کی بلکہ صرف یہ کہا گیا ہے کہ انہیں قومی ٹیم میں منتخب نہ کیا جائے لیکن یہ پابندی غیر معینہ مدت کے لیے ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے بھی کچھ عرصہ پہلے یہ اشارہ دیا تھا کہ دو کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث ہیں تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ یہ دونوں سابق کھلاڑی ہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے سینٹررز کے الزامات پر کہا کہ اگر وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ہوتےتو وہ اس بات کی مکمل تصدیق اور ثبوت حاصل کرنے کے بعد میڈیا کو بتاتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی سی بی کے پاس ثبوت موجود ہیں تو کسی ورلڈ کپ کا انتظار کیے بغیر ان کھلاڑیوں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ آسٹریلیا کے دورے میں میچ فکسنگ ہو سکتی تھی کیونکہ اس دورے میں پاکستان کی ٹیم فیورٹ نہیں تھی اور میچ فکسنگ کا امکان فیورٹ ٹیم کی جانب سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی ایک آدھ کھلاڑی ذاتی طور پر ملوث ہو اور اگر کرکٹ بورڈ کے پاس ٹھوس شواہد ہیں تو نہ صرف ایسے کھلاڑی پر تاحیات پابندی لگا دی جائے بلکہ اس کے اثاثوں کی بھی جانچ ہو۔
سابق چیئرمین کا یہ بھی کہنا تھا کہ سچ کیا ہے یہ تو کرکٹ بورڈ اور کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ ہی جانتے ہیں۔
’نون لیگ صرف پنجاب کی جماعت ہے‘
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ وزیر اعلیْ شہباز شریف کے طالبان کو پنجاب میں حملہ نہ کرنے کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ نون پورے ملک جماعت نہیں ہے۔
ادھر شہباز شریف نے اپنے بیان کے بارے میں ایک وضاحت جاری کی ہے اور بقول ان کے بعض حلقوں نے ان کے بیان کو غلط معنی پہنانے اور اسے اپنی مرضی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
کلِک پنجاب پر حملے نہیں کرنے چاہیں: شہباز شریف
اتوار کو لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر طالبان کا یہ نکتہ نظر یا موقف ہے کہ وہ اغیار کے پاکستان پر تسلط اور ڈکٹیشن کے خلاف ہیں تو پھر انہیں پنجاب میں ایسی حرکتیں نہیں کرنی چاہئیں۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے وزیر اعلیْ شہبازشریف پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے حملہ نہ کرنے کا بیان دیکر دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جنرل ضیاء کا اصل وارث ہیں
اتوار کو لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر طالبان کا یہ نکتہ نظر یا موقف ہے کہ وہ اغیار کے پاکستان پر تسلط اور ڈکٹیشن کے خلاف ہیں تو پھر انہیں پنجاب میں ایسی حرکتیں نہیں کرنی چاہئیں۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے وزیر اعلیْ شہبازشریف پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے حملہ نہ کرنے کا بیان دیکر دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں اور یہ ثابت کیا ہے کہ وہ جنرل ضیاء کا اصل وارث ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیْ کے بیان سے قائد اعظم کی روح تڑپ اٹھی ہوگی اس لیے وزیر اعلیْ شہباز شریف کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے بیانات نہ دیں ۔ان کے بقول شہبازشریف کے بیان سے پاکستانی عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جبکہ پنجابی اس پر شرمندہ ہیں۔
گورنر کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں صوبہ پنجاب میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تو کیا ڈاکوں کے پاس جاکر ان سے یہ کہا جائے کہ پنجاب میں کچھ نہ کریں اور باقی پاکستان کو لوٹیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر شہبازشریف نے طالبان اور فرقہ پرست قوتوں کی حمایت کرنی ہے تو کھل بات کریں کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر اعلیْ کو خط میں یہ لکھا تھا کہ کالعدم تنظیموں کی حمایت یا تقویت دینا انسداد دہشت گردی کی زد میں آتا ہے۔ تاہم اب شہباز شریف نے خود ہی عوام کے سامنے جواب دے دیا ہے۔
ماڈل ٹاؤن میں جس سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ پر حملہ ہوا ہے وہ نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت کے تحت کام کرتا ہے بلکہ وزیر اعلیْ کے ماتحت ہے جسے میجر ریٹایرڈ مشتاق اور رانا مقبول چلا رہے ہیں۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر
ان کا کہنا ہے کہ جب کالعدم تنظیم کو پنجاب میں پولیس سیلوٹ کرے گی تو پھر فرقہ پرستی پھیلانے کی چھوٹ دینے کی بات ہے۔ سلمان تاثیر نے کہا کہ امریکہ کی مخالفت کی باتیں کرنے والے یہ بتائیں کہ جب کارگل کا واقعہ ہوا تھا تو ان کے پاس کون بھاگ کرگیا تھا اور امریکہ سے کس نے کہا کہ انہیں بچائیں۔
گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں جس سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ پر حملہ ہوا ہے وہ نہ وفاقی حکومت اور نہ ہی صوبائی حکومت کے تحت کام کرتا ہے بلکہ بقول ان کے یہ ادارہ وزیر اعلیْ کے ماتحت ہے جسے میجر ریٹایرڈ مشتاق اور رانا مقبول چلا رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیْ پنجاب شہبازشریف نے اپنی وضاحتی بیان میں کہا کہ ان کی جامعہ نعیمیہ میں تقریر کے بعض حصوں کو سیاق وسباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے اور اس میں سے مرضی کا معنی نکالنے کی کوشش کی گئی ہے۔
شہباز شریف نے وضاحت کی ’ میں نے گفتگو صحافی حامد میر کے تقریر میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کی تھی اور اسے تناظرمیں دیکھا جانا چاہئے۔وزیر اعلیْ نے کہا کہ میں نے صحافی کی تقریر کے جواب میں کہا کہ آگر آپ کی یہ بات درست ہے کہ ہم پاکستان پر اغیار کے تسلط اور ڈکٹیشن کے خلاف ہیں اور طالبان بھی ان کے خلاف ہیں تو پھر طالبان کو پنجاب پر حملے نہیں کرنے چاہئیے تھے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب کی انتظامیہ عکسریت پسندوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹ رہی تو پھر یہ دہشتگرد پنجاب اور اس کے دارالحکومت لاہور کو بار بار اپنی وحشانہ سرگرمیوں کا نشانہ کیو بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور ساست دان صوبائی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کریں ۔
سرکوزی کی پارٹی کو شکست کا سامنا

شکست کے باوجود اصلاحات کا عمل جاری رہے گا: صدر نکولا سرکوزی
انتخابی جائزوں کے مطابق فرانس کے صدر نکولا سرکوزی کی جماعت کو علاقائی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے۔
صدر سرکوزی کے 2007 میں صدر منتخب ہونے کے بعد یہ پہلا انتخابی معرکہ ہے جس میں ان کی جماعت بائیں بازو کی ہاتھوں شکست سے دوچار ہوتی نظر آتی ہے۔
انتخابی جائزوں کے مطابق سوشلسٹ جماعت کو تیس فیصد سے زائد ووٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ صدر سرکوزی کی جماعت کو چھبیس فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے پچھلے انتخابات کے مقابلے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کے ووٹوں کا تناسب بارہ فیصد تک ہو سکتا ہے۔
صدر سرکوزی نےممکنہ انتخابی دھچکے کو یہ کہہ مسترد کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ملک میں اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے۔ صدر سرکوزی کے غیر مقبول ہونے کی وجہ ملک میں بڑھتی ہو ئے بے روزگاری ہے۔ فرانس میں بیروزگاری کی شرح دس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بیروزگار افراد کی تعداد تیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
موجودہ انتخابی معرکہ 2012 میں ہونے والے صدراتی انتخابات سے پہلے سب سے اہم سیاسی مقابلہ ہے۔
الیکشن میں ووٹرز کے سامنے عالمی کساد بازاری اور اُس کے فرانسیسی معیشت پر اثرات کا موضوع سب سے اہم ہے۔
اسرائیل امریکہ تعلقات: تاریخی سرد مہری
امریکہ میں اسرائیل کے سفیر نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بدترین بحران سے گزر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ایسا بحران گزشتہ پینتیس سال میں کبھی پیدا نہیں ہوا تھا۔

’ہم جانتے ہیں کہ ایسی صورتحال سے ٹھنڈے اور سنجیدہ انداز میں کیسے نمٹا جاتا ہے‘۔
امریکہ اسرائیل تعلقات میں یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں سولہ سو نئے گھروں پر مشتمل عمارتوں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان اس وقت کیا جب امریکی نائب صدر جو بائڈن اسرائیل کے دورے پر تھے۔
امریکہ نے اسرائیل کے اس اقدام کو امریکی اور فلسطینی رہنماؤں کی ہتک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیادت سے بالراست بات چیت اب ’غیر یقینی‘ ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ نئی یہودی آبادیوں سے مشرقی یروشلم میں آباد عربوں کو کوئی ’تکلیف‘ نہیں ہو گی۔
لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ یہودی بستیوں کی توسیع کے منصوبے کے اعلان کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں آنے والی کشیدکی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔
صدر براک اوباما کے مشیر ایمونیل ایگزلروڈ نے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم میں نئی یہودی بستیوں کی تجویز مشرقی وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے لیے تباہ کن ہے اور امریکی نائب صدر کی موجودگی میں اس منصوبے کا اعلان امریکی کی ہتک کے مترادف ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اتوار کو اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اسرائیل سفارتی تنازعے کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ امن بات چیت جاری رہے گی اور فلسطینی کوئی نئی شرائط نہیں لگائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’گزشتہ چالیس سال میں کسی حکومت نے یروشلم کے نواح میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو محدود نہیں کیا‘۔
انہوں نے کہا کہ ان بستیوں کو نہ تو مشرقی یروشلم میں بسنے والے عربوں کی قیمت پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان کی تعمیر سے انہیں کوئی تکلیف پہنچے گی۔
اسی دوران یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کے سربراہ بیرونیس ایشٹن نے جو ان دنوں مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں کہا ہے کہ اسرائیل کے فیصلے نے فلسطینیوں سے بالراست بات چیت پر پانی پھیر دیا ہے۔
پارلیمان سے خطاب سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ جس طرح ذرائع ابلاغ میں اس پورے معاملے کی کوریج ہوئی اس سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ ایسی صورتحال سے ٹھنڈے اور سنجیدہ انداز میں کیسے نمٹا جاتا ہے‘
|
|
|
اسلام آباد:
عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے بحالی
کا ایک سال کل مکمل ہورہا ہے ۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 16 مارچ 2009ءکو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت عدالت عظمیٰ اور صوبائی ہائی کورٹس کے معزول جج صاحبان کو بحال کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے وہ احکامات کالعدم ہوگئے تھے جو اس نے 3 نومبر 2007ءکو جاری کئے تھے جس کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے 50 سے زائد ججوں کو ان کے عہدوں سے معزول کر دیا گیا تھا۔ |
|
|
|
اسلام آباد:
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انتہا پسندی
اور عسکریت پسندی کی سوچ بدلنے کے لیے صوفیاء
کرام کی تعلیمات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایوان صدر میں صوفی ازم اور امن کےمتعلق بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ماضی میں مخالف نظریئے کو شکست دینےکے لیے انتہاپسندانہ سوچ پروان چڑھائی گئی موجودہ دور کا اہم ترین مسئلہ سرحدوں کے اندر اورباہر امن قائم کرنا ہے۔ صدر نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ قاتل کی گولی ان کا انتظار کر رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ خود بھی موت کے پھندے سے صدارت تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان دہشت گردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔ |
|
|
|
راولپنڈی :
وزیرا علیٰ پنجاب شہباز شریف نے آرمی چیف جنرل
اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی جس میں باہمی
دلچسپی کے امور اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال
پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق ون ٹو ون ملاقات میں جمعہ کو لاہور میں ہونے والے دھماکوں سے متعلق غور کیا گیا۔اس موقع پر پاک فوج کی جانب سے پنجاب پولیس کو تربیت سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ |
|
|
|
لاہور:
ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی
نے کہاہے کہ جھوٹی تسلیاں دینے کے بجائے وزیر
اعظم یوسف رضا گیلانی اوروفاقی وزیر داخلہ
رحمان ملک ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ سے اپنے ساتھ
واپس لانے کا وعدہ پورا کریں۔
لاہور میں علامہ اقبال میڈیکل کالج میں ایک سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت عافیہ صدیقی کیس میں ان کی مرضی کے وکیل کے تقرر میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ایجنسیاں ڈاکٹر عافیہ کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہیں، لہٰذاعافیہ کیس کی تحقیقات پرائیوٹ ایجنسیوں سے کروائی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان عورت کو کافروں کے عقوبت خانوں سے رہائی نہ دلانا حکمرانوں کی بے حسی کا مظہر ہے۔ |
|
|
|
اسلام آباد :
ملک بھر میں 3 روزہ پولیو کل سے شروع ہوگئی جس
میں 5 سال تک کے 30 ملین بچوں کو پولیو ویکسین
کے قطرے پلائے جائیں گے۔ محکمہ صحت کی 43033
ٹیمیں اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے کام کر
رہی ہیں جنہیں 7922 علاقائی، 1296 زونل اور
500 قومی سپروائزر مانیٹر کررہے ہیں۔
محکمہ صحت کے ایک آفیسر کے مطابق حالیہ پولیو کیسز سامنے آنے کے بعد حکومت نے عزم کیا ہے کہ اس چیلنج سے ہر صورت نمٹا جائے گا جس کیلئے ملک بھر میں خصوصی کیمپ قائم کئے جائیں گے جہاں بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو ویکسین عالمی معیار کے مطابق ہے اور سعودی عرب سمیت بیشتر ممالک میں یہی ویکسین دی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ ، دوست ممالک ، امداد دینے والے ممالک ، امدادی تنظیمیں، نجی ادارے اور پولیو فاﺅنڈیشن نے اپنے تمام تر وسائل پاکستان سے پولیو کے مرض کے خاتمے کیلئے وقف کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے والدین سے درخواست کی کہ اپنے بچوں کو ہر صورت پولیو کے قطرے پلائیں عدم دستیابی کی صورت میں کسی بھی قریبی ویکسین سنٹر، ہسپتال یا مرکز صحت سے یہ قطرے پلائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے سماجی ، مذہبی رہنماﺅں ، میڈیا، محکمہ تعلیم اور ہیلتھ ورکرز سے بھی اپیل کی ہے کہ اس مہم کی کامیابی کیلئے کردار ادا کریں۔ |
|
|
|
کراچی : گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے
کہاہے کہ پولیس اور حساس اداروں نے کراچی میں
اسلحہ جمع ہونے کی نشاندہی کی ہے جس پر یقینا
موثر کارروائی ہوگی۔ نئے بلدیاتی نظام کی
تشکیل کیلئے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے
درمیان کوئی ڈیڈ لاک نہیں۔
گورنر سندھ نے کراچی کے مختلف علاقوں کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو میں علما کرام کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کی اور کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہورہی ہیں اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتیں دن رات نئے بلدیاتی نظام کے قانونی مسودے پر کام کررہی ہیں دونوں جماعتیں کھلے دل سے ایک دوسرے کے ساتھ نظام کو بہتر کرنے کیلئے کام کررہے ہیں ۔ |
|
|
|
|
|
اسلام آباد :
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے دہشتگردی
کیخلاف جنگ کے باعث سماجی ترقی کا بجٹ 421 ارب
روپے کرنے کی تجویز مستردی کرتے ہوئے 300ارب
روپے کے بجٹ کی منظوری دی ہے۔
وزیراعظم نے ان اقدامات کی منظوری پلاننگ کمیشن کےاجلاس کے دوران دی۔مالی سال 2009-10ء کیلئے پی ایس ڈی پی کی مالیت 421 ارب روپے تجویز کی گئی تھی تاہم دہشت گردی کیخلاف جنگ آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال اور فرینڈز آف پاکستان کے وعدوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کے باعث حکومت کو پی ایس ڈی پی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرنا پڑی۔ 300 ارب روپے کا بجٹ گذشتہ مالی سال سے پچاس ارب روپے زائد ہے ۔ وزیراعظم نے ریلوے کے ڈبل ٹریک تیار کرنے اور غیر فعال انجن فعال بنانے کی بھی ہدایت کی۔ |
|
|
|
اسلام آباد :
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے دہشتگردی
کیخلاف جنگ کے باعث سماجی ترقی کا بجٹ 421 ارب
روپے کرنے کی تجویز مستردی کرتے ہوئے 300ارب
روپے کے بجٹ کی منظوری دی ہے۔
وزیراعظم نے ان اقدامات کی منظوری پلاننگ کمیشن کےاجلاس کے دوران دی۔مالی سال 2009-10ء کیلئے پی ایس ڈی پی کی مالیت 421 ارب روپے تجویز کی گئی تھی تاہم دہشت گردی کیخلاف جنگ آئی ڈی پیز کی دیکھ بھال اور فرینڈز آف پاکستان کے وعدوں کی بروقت تکمیل نہ ہونے کے باعث حکومت کو پی ایس ڈی پی میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرنا پڑی۔ 300 ارب روپے کا بجٹ گذشتہ مالی سال سے پچاس ارب روپے زائد ہے ۔ وزیراعظم نے ریلوے کے ڈبل ٹریک تیار کرنے اور غیر فعال انجن فعال بنانے کی بھی ہدایت کی۔ |
تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرے
تھائی وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس سے قبل تھائی دارالحکومت میں کم ازکم ایک لاکھ حکومت مخالف مظاہرین نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ۔ بنکاک میں جمع ہوئے ان مظاہرین نے کہا کہ وزیر اعظم ابھیست ویجا جیوا ، پارلیمان تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات منعقد کروائیں۔ یہ مظاہرین سابق وزیر اعظم تھاکسن شنیواترا کی حمایت کر رہے تھے۔ تھاکسن کو سن دو ہزار چھ میں فوجی حکومت نے اقتدار سے ہٹا کر ملک کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بنکاک میں اکٹھے ہوئے ان مظاہرین کی بڑی تعداد ملک کے پسماندہ شمال مشرقی علاقوں سے آئی تھی۔
امریکہ کی اسرائیل پر سخت تنقید، نیتن یاہو کی اپنی کابینہ سے پرسکون رہنے کی اپیل
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے اپنی کابینہ پر زور دیا ہے کہ مشرقی یروشلم میں نئے مکانات کی تعمیر کے خلاف واشنگٹن حکومت کی تیز و تند تنقید کے باوجود وہ پر سکون رہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اوردیگراعلیٰ انتظامیہ نے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم میں ان مکانات کی تعمیرکی امریکہ کی طرف سے مخالفت کے باوجود اسرائیل کے یہ اقدامات امریکہ کی ہتک عزتی کے مترادف ہیں۔ مشرقی یروشلم میں سولہ سو نئے مکانات کی تعمیر کا فیصلہ گزشتہ ہفتے اُس وقت کیا گیا جب نائب امریکی صدر جو بائیڈن مشرق وسطٰی کے دورے پر تھے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے ٹیلی فون پر چالیس منٹ کی طویل گفتگو میں انہیں خبردار کیا ہے کہ نئے مکانات کی تعمیر کے فیصلے سے تل ابیب اور واشنگٹن حکومت کے باہمی تعلقات پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
کیتھرین ایشٹن کا دورہ مشرق وسطیٰ
یورپی یونین کی خارجہ اور سلامتی امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن اپنے پہلے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران آج مصر میں اعلیٰ حکومتی اہلکاروں سے ملاقات کر رہی ہیں۔ آج ہی وہ عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ سے بھی ملاقات کریں گی۔ ایشٹن نے اس دورے پر روانہ ہونے سے قبل کہا: ’’ میں ایک سادہ سا پیغام لے کر اس خطے کا دورہ کرنے جا رہی ہوں کہ خطے کے تمام اہم رہنما قیام امن کے لئے اپنا اپنا فعال کردار ادا کریں۔‘‘ ایشٹن اپنے اس ہفتہ بھر کے دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے علاوہ لبنان، شام اور اردن بھی جائیں گی۔
عراقی پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج ، المالکی سب سے آگے
عراقی پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق وزیر اعظم نوری المالکی کی سیاسی جماعت واحد بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ ان انتخابات کے انعقاد کے آٹھ دن بعد موصول ہونے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق المالکی کی پارٹی اسٹیٹ آف لا ء الائنس نے ملک کے دو بڑے صوبوں میں بھاری اکثریت حاصل کی ہے۔عراقی پارلیمانی انتخابات کے مکمل نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں۔
روسی علاقائی انتخابات میں برسراقتدار پوتین کی کامیابی
روسی علاقائی انتخابات میں وزیر اعظم ولادی میر پوتین کی برسراقتدار پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سلسلہ وار ہوئے ان انتخابات کے دوران دھاندلیوں کے الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی مجموعی شرح 43 فیصد رہی۔ دو سال قبل کےانتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ متحدہ روس کے حامیوں کی کامیابی کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ حکمران پارٹی، سائبیریا کے شہرایرکوٹسک میں میئر کی نشست پر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔ یہاں اپوزیشن کمیونسٹ پارٹی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔
فرانس میں علاقائی انتخابات کا پہلا مرحلہ، صدر سارکوزی کو شکست
فرانس میں علاقائی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ میں حاصل شدہ ابتدائی نتائج کے مطابق صدرنکولاسارکوزی کی قدامت پسند پارٹی یو ایم پی کو شکست کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز ہوئے ان انتخابات میں ڈالے گئے چھیانوے فیصد ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ وزرات داخلہ کی طرف سے جاری کردہ نتائج کے مطابق سوشلسٹ اور دیگر بائیں بازو کی جماعتوں نے مجموعی طور پر 54 فیصد ووٹ حاصل کئے جبکہ سارکوزی کی یو ایم پی پارٹی اوردائیں بازو کی دیگر اتحادی جماعتوں نے چالیس فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں۔
جرمن اسلحہ کی برآمدات میں اضافہ
سوئٹزرلینڈ کے ایک تھینک ٹینک ادارے نے کہا ہے کہ جرمنی نے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اسلحے کی برآمدات دو گنی کر دیں ہیں۔ اسٹاک ہولم کے ایک تحقیقی ادارے SIPRI نے اپنی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلحہ سازی کی عالمی مارکیٹ میں جرمنی نے اپنی انفرادی فروخت میں گیارہ فیصد اضافہ کیا ہے۔ اس ادارے کے اعداد وشمار کے مطابق جرمن برآمدات میں زیادہ تر جنگی گاڑیاں اور آبدوزے وغیرہ شامل ہیں۔
بھارتی ریاست راجھستان میں بس کے ایک حادثے میں 26 افراد ہلاک
بھارتی ریاست راجھستان میں بس کے ایک حادثے میں 26 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بس ضلع سوائی مدھپور میں ایک پل سے گزر رہی تھی کہ وہاں سے گزرنے والی ایک اورگاڑی سے ٹکرا کر خشک جھیل میں جا گری۔ بس میں تقریباً ساٹھ افراد سورا تھے، جن میں طلبہ کے علاوہ اساتذہ کو تربیت دینے والے ایک کالج کا عملہ بھی شامل تھا۔ مرنے والوں میں گیارہ خواتین ہیں جبکہ تیس سے زائد افراد زخمی ہیں۔ یہ افراد دو ہندو مذہبی مقامات کا دورہ کر کے خان پور واپس آ رہے تھے۔
یمن میں دو اہم جنگجو ہلاک
یمن کے ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ القاعدہ نیٹ ورک کے اہم ٹھکانوں پر ایک فضائی حملے میں دو اہم جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیاہے۔ حکام کے مطابق یہ جنگجو یمن میں کئی’ اہم تنصیبات ‘ پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز جنوبی صوبے عبیان میں ہوئی اس فضائی کارروائی میں کم ازکم بیس افراد ہلاک ہوئے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ القاعدہ نیٹ ورک ،یمن کے پسماندہ علاقوں میں غریب طبقے کو بھرتی کرتے ہیں ،جو بعد ازاں تربیت حاصل کرنے کے بعد دنیا بھر میں حملے کرتے ہیں۔
بان کی مون کا دورہ ہیٹی
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ہیٹی میں زلزلہ متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے لئے امدادی رقوم کی کمی نہیں ہونے دیں گے۔ گزشتہ روز انہوں نے یہ بیان ہیٹی کے دورے کے دوران دیا۔ بارہ جنوری کو ہیٹی میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد بان کی مون نے دوسری مرتبہ ہیٹی کا دورہ کیا ہے۔ دارالحکومت پورٹ او پرانس میں اپنے مختصر قیام کے دوران اقوام متحدہ کے سربراہ نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کی وہاں امدادی کارروائیوں کا سلسلہ بہتر طریقے سے جاری رہے گا۔ بان کی مون نے یہ دورہ اس وقت کیا ہے جب یہ شکوک پائے جا رہے ہیں کہ ہیٹی زلزلہ متاثرین کی مدد کے لئے عالمی ڈونرز کی دلچسپی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔
یورپی یونین ایران پر یکطرفہ پابندیوں کے لئے تیار
فن لینڈ میں یونین کے رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس کے موقع پر اتوار کو صحافیوں سے بات چیت میں فرانسیسی وزیر خارجہ بیرنارڈ کوشنیر نے یہ بھی کہا کہ یورپی حکام کو ان پابندیوں کی نوعیت پر غور کرنا ہوگا۔
Bildunterschrift:
Großansicht des Bildes mit der
Bildunterschrift: اٹلی
کے وزیر خارجہ فرانکو فراتینی
بیرنارڈ کوشنیر نے کہا کہ ایران کے
متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے یورپی یونین کی
پابندیوں سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں
قرارداد کی منظوری کی کوشش کی جانی چاہئے اور اس پر
کام جاری ہے۔ صحافیوں نے بیرنارڈ کوشنیر سے سوال کیا
کہ ایران پر پابندیوں کے لئے یورپی یونین کے ممالک میں
اتفاق رائے ہے یا نہیں؟ اس پر کوشنیر نے کہا کہ عمومی
اتفاق رائے یہ بھی ہے کہ عوام کو ہدف نہ بنایا جائے
بلکہ معیشت، بینکاری، انشورنس اور سفری اجازت ناموں کے
حوالے سے مخصوص لوگوں کو نشانہ بنایا جائے۔
قبل ازیں ہفتہ کو فن لینڈ کے وزیر خارجہ الیکسانڈر شٹُب بھی کہہ چکے ہیں کہ ضرورت ہوئی تو ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں اور یورپی حکام کے درمیان اس بارے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔
یہ بیانات یورپی حکام کی جانب سے پہلا
واضح اعلان ہے کہ اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر
بھی ایران پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب
یورپی یونین کے بعض رکن ممالک ایسے کسی بھی اقدام کی
مخالفت بھی کر چکے ہیں۔ خبررساں ادارے AFP نے ایک
یورپی سفارت کار کے حوالے سے بتایا کہ اقوام متحدہ کے
دائرہ کار سے باہر ایران پر پابندیوں کے لئے یورپی
یونین میں قطعی اتفاق رائے نہیں جبکہ سویڈن بالخصوص
ایسی کسی بھی کارروائی کے خلاف ہے۔
Bildunterschrift:
Großansicht des
Bildes mit der Bildunterschrift:
فن لینڈ کے وزیر
خارجہ الیکسانڈر شٹُب
امریکہ اور فرانس سمیت بعض مغربی ممالک ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لئے اس پر مزید پابندیوں کے خواہاں ہیں۔ انہیں شبہ ہے کہ تہران حکام اس منصوبے کے ذریعے جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔
اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فراتینی کا کہنا ہے کہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد کی منظوری متوقع ہے اور یورپی یونین کی جانب سے آئندہ کچھ مہینوں تک ایسی کارروائی کا امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ رواں ماہ کے آخر تک قرار داد کا مسودہ پیش کر سکتا ہے، جسے آگے بڑھنے میں وقت لگے گا۔
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے صرف چین ہی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی مخالفت کر رہا ہے جبکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس اس پر متفق ہیں۔ سلامتی کونسل میں کسی قرارداد کی منظوری کے لئے اقوام متحدہ کے اس ادارے کے دس غیر مستقل رکن ملکوں میں سے چار کی حمایت لازمی ہوتی ہے جبکہ کوئی بھی مستقل رکن ملک قرارداد کو ویٹو کر سکتا ہے۔
راجستھان: بس حادثے میں 26 طلبہ ہلاک
ہندوستان کی ریاست راجستھان کے سوائی مدھوپور ضلع ميں ایک بس کے ندی میں گرنے کے سبب چھبیس طلبہ کے مارے جانے کی خبر ہے۔ اس کے علاوہ حادثے ميں کئی بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں ميں گیارہ لڑکیاں اور پندرہ لڑکے شامل ہیں۔
حادثے میں 34 افراد زخمی ہوئے ہیں جن ميں پانچ کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ شدید زخمی افراد کو کوٹہ ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے جبکہ دیگر کو سوائی مادھوپور کے ضلع ہسپتال میں لے جایا گیا ہے۔
سوائی مادھوپور کے سینیئر پولیس اہلکار وکاس کمار نے 26 اموات کی تصدیق کی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب صبح تین بجے موریل ندی پر بنے ہوئے ایک پل کو پار کرنے والی بس کے ڈرائیور نے اپنا کنٹرول کھو دیا اور بس 35 فن نیچے سوکھی ندی میں جاگری۔ اس وقت بیشتر مسافر سو رہے تھے۔
پولیس کے مطابق یہ طلبہ جھالواڑا علاقے کے ایک کالج کے تھے اور اتر پردیش ميں مذہبی مقامات کے سفر کے لیے نکلے تھے۔
بہوجن سماج پارٹی ریلی تنقید کی زد میں
ریاست اتر پردیش میں حکمراں بہوجن سماج پارٹی نے لکھنؤ ميں ایک بڑی ریلی منعقد کی ہے جس کو مہا ریلی کا نام دیا گیا ہے۔ پارٹی کے بانی کانشی رام کی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی ریلی اور تقریب کو پارٹی کی سلورجوبلی جشن کے طور پر بھی منایا جا رہا ہے۔

ریلی میں بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ نے عوام سے خطاب کے دوران کانگریس پارٹی پر سخت نکتہ چینی کی اور اسے دلت مخالف پارٹی قرار دیا۔
لیکن ریلی پر خرچ کی گئی رقم اور کافی دنوں سے جاری تیاریوں کے سبب یہ ریلی تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔
حزب اختلاف نے الزام عائد کیا ہے کہ ریلی کی تیاریوں ميں نہ صرف تمام سرکاری محکمہ جی جان سے لگا ہوا ہے بلکہ سرکاری خزانے کے کروڑوں روپے پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پچھلے ہفتے ریاست کے کنڈا علاقے میں واقع ایک آشرم میں بھگدڑ مچ جانے سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے، اس وقت ریاست کی وزیر اعلی مایاوتی نے مرنے والوں کے لیے یہ کہہ کر کوئی معاوضہ دینے سے انکار کردیا تھا کہ سرکار کے اقتصادی حالات اچھے نہیں ہیں۔
بہوجن سماج پارٹی کے سینیئر ممبر بابو سنگھ کشواہا نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلی میں شرکت کرنے والوں پر خرچ ہونے والی رقم کی ذمےداری پارٹی کی ہے۔
کانگریس پارٹی نے ریلی کو سرکس قرار دیا ہے۔
ریاستی کانگریس کی صدر ریٹا بہوگڑا جوشی نے لکھنؤ میں صحافیوں سے بات چیت ميں کہا ’ ریلی کا مقصد دلتوں، غریبوں، پسماندہ اور اقلیتوں کی بہتری نہیں ہے بلکہ ریاست کے ووٹروں کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ حالات قابو میں ہیں جبکہ پارٹی یعنی بہوجن سماج وادی پارٹی کی بنیاد کمزور پڑ چکی ہے۔‘
امریکی حکومت کا ’نجی جاسوسی کا آپریش‘
ایک امریکی اخبار کے مطابق پینٹاگون کے ایک اہلکار نے مطلوب افغان طالبان کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے افعانستان اور پاکستان میں نجی اہلکاروں کی ایک ٹیم قائم کی تھی اور اس منصوبے کے لیے شاید وہ رقم استعمال کی گئی ہو جو امریکی فوج کو افغان سماجی اور قبائلی امور کے بارے میں معلومات دینے کے لیے مختص تھی۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس پورگرام میں کافی رقم ویب سائٹ ایفپیکس کو دی ئی
روزنامہ نیو یارک ٹائمز میں پیر پندرہ مارچ کو چھپبنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مائکل ڈی فرلونگ نامی امریکی اہلکار نے اُن نجی سکیورٹی کپمنیوں سے افراد کو اس پروگرام میں لگایا تھا جن کے عملے میں عموماً سی آئی اے اور خوصی کمانڈوز کے سابق اہلکاروں شامل ہوتے ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مشتبہ شدت پنسدوں اور دہشت گرد تربیتی کیمپوں کے اتہ پتہ کے بارے میں معلومات جمع کر کے فوجی اہلکاروں اور خفیہ اداروں کو دینے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا
اخبار کے مطابق کچھ امریکی اہلکاروں کو مائکل فرلونگ کے اس پروگرام کے بارے میں خدشات تھے۔ ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ جاسوسی کا ایک ’نجی آپریشن‘ تھا اور یہ واضح نہیں کہ اس کی منظوری کس نے دی تھی اور نہ یہ واضح تھا کہ اس کی نگرانی کون کر رہا تھا۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ان معلومات کی بنیاد پر دیگر مشتبہ طالبان کو پھر ہلاک بھی کیا گیا۔
خفیہ امریکی فوجی آپریشنز کے لیے نجی ایجنسیوں کے اہلکاروں کا استعمال قانون اور اصول کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے کے بارے میں بات کرنے والے اہلکاروں نے خاص یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی کے لیے شاید وہ رقم استمال کی گئی جو افغانستان کے سماجی حالات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیےمختص تھی۔
ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مائکل فرلونگ کا یہ ’نجی خفیہ آپریشن‘ بند کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف فراڈ سمیت کئی الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
مائکل فرلونگ ائر فورس کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں اور وہ بطور سو لیئن امریکی وزارت خارجہ پینٹاگون میں اعلی عہدے میں تعینات ہیں۔ وہ عراق اور سابق یوگوسلاویہ میں کام کر چکے ہیں۔
اخبار کے مطابق مائکل فرلونگ نے فوج کے کہنے پر یہ کام سنہ دو ہزار آٹھ میں شروع کیا تھا اور اس میں خرچ ہونے والی بائیس ملین ڈالر کی سرکاری رقم استعمال ہوئی جس میں زیادہ تر پیسہ ’انٹرنیشنل میڈیا وینچرز‘ نامی کمپنی کو دیا گیا۔ یہ کمپنی اپنے آپ کو تعلقات عامہ یعنی پبلک رلیشنز کی کپمنی بتاتی ہے۔
اس کمپنی میں کئی ایسے اہلکار شامل ہیں جو پہلے فوج کے خصوصی کمانڈوز میں شامل تھے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تجویز سی این این کے ایک سابق نیوز ایڈیٹر ایسون جورڈن اور ان کے پارٹنر اور مصنف رابرٹ پیلن نے پیش کی تھی۔ انہوں نے پھراس سلسے میں ’ایفپیکس‘ نامی ویب سائٹ بھی قائم کی۔ رابرٹ پیلٹن جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں کتابیں لکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بعد میں ان کی جمع کردہ معلومات کا مائکل فرلونگ نے غلط استعمال کیا اور ’اس کو لوگوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘
نیو یارک ٹائمز کے مطابق کئی امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ جاسوسی کا ایک ’نجی آپریشن‘ تھا اور یہ واضح نہیں کہ اس کی منظوری کس نے دی تھی اور نہ یہ واضح تھا کہ اس کی نگرانی کون کر رہا تھا۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ممکن ہے کہ اس پروگرام سے حاصل معلومات کے ذریعے ہی کئی مطلوب طالبان کو ہلاک کیا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی حکومت کی پاکستانی سرزمین امریکی فوجی کارروائیوں پر پابندی کی وجہ سے مطلوب طالبان کے کھوج لگانے کا یہ سب سے بہتر طریقہ سمجھا گیا ہو۔
آپریشن کے بارے میں کے خدشات:
نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کئی مرتبہ مائکل فرلونگ کے ’نجی آپریش‘ کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں فوجی ترجمان ایڈمرل گریگوری سِمتھ نے بھی اس معاملے کے بارے میں بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنہ دو ہزار نو میں ایفپیکس کے کام کی مخالفت کی تھی اور یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کا کام انٹیلجنس جمع کرنا معلوم ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مائکل فرلونگ کے استعمال میں تقریباً پندرہ ملین ڈالر کا ابھی تک کوئی حساب نہیں ہے۔
افعانستان میں پینٹاگون اہلکار کے اس نجی خفیہ آپریشن کے بارے میں رپورٹ سے ایک بار پھر جنگ زدہ علاقوں میں امریکی فوج کے لیے ان کمپنیوں کے ٹھیکوں کے بارے میں سوالات اٹھے ہیں جن میں سابق کمانڈو یا جاسوس ملازم ہیں۔ یہ اہلکار پیسہ بھی کماتے ہیں اور حکومتی سطح پر کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتے۔
امریکی حکومت کا ’نجی جاسوسی کا آپریش‘
ایک امریکی اخبار کے مطابق پینٹاگون کے ایک اہلکار نے مطلوب افغان طالبان کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے افعانستان اور پاکستان میں نجی اہلکاروں کی ایک ٹیم قائم کی تھی اور اس منصوبے کے لیے شاید وہ رقم استعمال کی گئی ہو جو امریکی فوج کو افغان سماجی اور قبائلی امور کے بارے میں معلومات دینے کے لیے مختص تھی۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق اس پورگرام میں کافی رقم ویب سائٹ ایفپیکس کو دی ئی
روزنامہ نیو یارک ٹائمز میں پیر پندرہ مارچ کو چھپبنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مائکل ڈی فرلونگ نامی امریکی اہلکار نے اُن نجی سکیورٹی کپمنیوں سے افراد کو اس پروگرام میں لگایا تھا جن کے عملے میں عموماً سی آئی اے اور خوصی کمانڈوز کے سابق اہلکاروں شامل ہوتے ہیں۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ان افراد کو مشتبہ شدت پنسدوں اور دہشت گرد تربیتی کیمپوں کے اتہ پتہ کے بارے میں معلومات جمع کر کے فوجی اہلکاروں اور خفیہ اداروں کو دینے کا ٹھیکہ دیا گیا تھا
اخبار کے مطابق کچھ امریکی اہلکاروں کو مائکل فرلونگ کے اس پروگرام کے بارے میں خدشات تھے۔ ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ جاسوسی کا ایک ’نجی آپریشن‘ تھا اور یہ واضح نہیں کہ اس کی منظوری کس نے دی تھی اور نہ یہ واضح تھا کہ اس کی نگرانی کون کر رہا تھا۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ان معلومات کی بنیاد پر دیگر مشتبہ طالبان کو پھر ہلاک بھی کیا گیا۔
خفیہ امریکی فوجی آپریشنز کے لیے نجی ایجنسیوں کے اہلکاروں کا استعمال قانون اور اصول کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس معاملے کے بارے میں بات کرنے والے اہلکاروں نے خاص یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی کے لیے شاید وہ رقم استمال کی گئی جو افغانستان کے سماجی حالات کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیےمختص تھی۔
ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ مائکل فرلونگ کا یہ ’نجی خفیہ آپریشن‘ بند کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف فراڈ سمیت کئی الزامات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تجویز سی این این کے ایک سابق نیوز ایڈیٹر ایوسن جورڈن اور ان کے پارٹنر اور مشنف رابرٹ پیلن نے پیش کی تھی۔ انہوں نے پھراس سلسے میں ’ایپفیکس ‘ نامی ویب سائٹ بھی قائم کی۔ رابرٹ پیلٹن جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں کتابیں لکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بعد میں ان کی جمع کردہ معلومات کا مائکل فرلونگ نے غلط استعمال کیا اور ’اس کو لوگوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘
مائکل فرلونگ ائر فورس کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں اور وہ بطور سو لیئن امریکی وزارت خارجہ پینٹاگون میں اعلی عہدے میں تعینات ہیں۔ وہ عراق اور سابق یوگوسلاویہ میں کام کر چکے ہیں۔
اخبار کے مطابق مائکل فرلونگ نے فوج کے کہنے پر یہ کام سنہ دو ہزار آٹھ میں شروع کیا تھا اور اس میں خرچ ہونے والی بائیس ملین ڈالر کی سرکاری رقم استعمال ہوئی جس میں زیادہ تر پیسہ ’انٹرنیشنل میڈیا وینچرز‘ نامی کمپنی کو دیا گیا۔ یہ کمپنی اپنے آپ کو تعلقات عامہ یعنی پبلک رلیشنز کی کپمنی بتاتی ہے۔
اس کمپنی میں کئی ایسے اہلکار شامل ہیں جو پہلے فوج کے خصوصی کمانڈوز میں شامل تھے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تجویز سی این این کے ایک سابق نیوز ایڈیٹر ایسون جورڈن اور ان کے پارٹنر اور مصنف رابرٹ پیلن نے پیش کی تھی۔ انہوں نے پھراس سلسے میں ’ایفپیکس‘ نامی ویب سائٹ بھی قائم کی۔ رابرٹ پیلٹن جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں کتابیں لکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بعد میں ان کی جمع کردہ معلومات کا مائکل فرلونگ نے غلط استعمال کیا اور ’اس کو لوگوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘
نیو یارک ٹائمز کے مطابق کئی امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ جاسوسی کا ایک ’نجی آپریشن‘ تھا اور یہ واضح نہیں کہ اس کی منظوری کس نے دی تھی اور نہ یہ واضح تھا کہ اس کی نگرانی کون کر رہا تھا۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ممکن ہے کہ اس پروگرام سے حاصل معلومات کے ذریعے ہی کئی مطلوب طالبان کو ہلاک کیا گیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستانی حکومت کی پاکستانی سرزمین امریکی فوجی کارروائیوں پر پابندی کی وجہ سے مطلوب طالبان کے کھوج لگانے کا یہ سب سے بہتر طریقہ سمجھا گیا ہو۔
آپریشن کے بارے میں کے خدشات:
نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کئی مرتبہ مائکل فرلونگ کے ’نجی آپریش‘ کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں فوجی ترجمان ایڈمرل گریگوری سِمتھ نے بھی اس معاملے کے بارے میں بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سنہ دو ہزار نو میں ایفپیکس کے کام کی مخالفت کی تھی اور یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کا کام انٹیلجنس جمع کرنا معلوم ہوتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ مائکل فرلونگ کے استعمال میں تقریباً پندرہ ملین ڈالر کا ابھی تک کوئی حساب نہیں ہے۔
افعانستان میں پینٹاگون اہلکار کے اس نجی خفیہ آپریشن کے بارے میں رپورٹ سے ایک بار پھر جنگ زدہ علاقوں میں امریکی فوج کے لیے ان کمپنیوں کے ٹھیکوں کے بارے میں سوالات اٹھے ہیں جن میں سابق کمانڈو یا جاسوس ملازم ہیں۔ یہ اہلکار پیسہ بھی کماتے ہیں اور حکومتی سطح پر کسی کو جوابدہ بھی نہیں ہوتے۔
سرکوزی کی پارٹی کو شکست کا سامنا

شکست کے باوجود اصلاحات کا عمل جاری رہے گا: صدر نکولا سرکوزی
انتخابی جائزوں کے مطابق فرانس کے صدر نکولا سرکوزی کی جماعت کو علاقائی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا ہے۔
صدر سرکوزی کے 2007 میں صدر منتخب ہونے کے بعد یہ پہلا انتخابی معرکہ ہے جس میں ان کی جماعت بائیں بازو کی ہاتھوں شکست سے دوچار ہوتی نظر آتی ہے۔
انتخابی جائزوں کے مطابق سوشلسٹ جماعت کو تیس فیصد سے زائد ووٹ ملنے کی توقع ہے جبکہ صدر سرکوزی کی جماعت کو چھبیس فیصد ووٹ ملنے کی توقع ہے۔انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں نے پچھلے انتخابات کے مقابلے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کے ووٹوں کا تناسب بارہ فیصد تک ہو سکتا ہے۔
صدر سرکوزی نےممکنہ انتخابی دھچکے کو یہ کہہ مسترد کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ملک میں اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے۔ صدر سرکوزی کے غیر مقبول ہونے کی وجہ ملک میں بڑھتی ہو ئے بے روزگاری ہے۔ فرانس میں بیروزگاری کی شرح دس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بیروزگار افراد کی تعداد تیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔
موجودہ انتخابی معرکہ 2012 میں ہونے والے صدراتی انتخابات سے پہلے سب سے اہم سیاسی مقابلہ ہے۔
الیکشن میں ووٹرز کے سامنے عالمی کساد بازاری اور اُس کے فرانسیسی معیشت پر اثرات کا موضوع سب سے اہم ہے۔
کرنسی کی قدر تبدیل کرنے سے انکار

چین نے مغربی ممالک کی طرف سے کرنسی کی قدر میں تبدیلی کےمطالبے کو رد کرتے ہوئےامریکہ کومشورہ دیا ہے کہ اپنے حالات ٹھیک کرنے پر توجہ دے۔
امریکہ اور یورپی یونین چین پر الزام لگاتے ہیں کہ چین اپنی ملکی برآمدات کو بڑھانے کی غرض سے کرنسی کی قدر کومصنوعی طور پر کم رکھا ہوا ہے۔ امریکہ صدر براک اوباما نے چین سے کہا تھا کہ وہ اپنی کرنسی کی مالیت کا تعین حقیت پسندانہ انداز میں کرے۔
چین کے صدر وین جیاباؤ نے کہا کہ عالمی معیشت کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے یوان کی قدر کو مستحکم رکھنا بہت ضروری ہے۔
چین کے صدر نے سالانہ پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران امریکہ کی طرف سے تائیوان کو اربوں ڈالر کا اسلحہ بیجنے اور تبت کے جلا وطن روحانی پیشوا دلائی لامہ کی امریکہ میں آو بھگت اور صدر سے ملاقات کا ذکر کیا اور اسے غلطی قرار دیا۔
امریکہ اور یورپی یونین الزام لگاتے رہے ہیں کہ چین جان بوجھ کر یوان کی قدر کم رکھنا چاہتا ہے تاکہ برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو۔چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے زرمبادلہ کی شرح تبدیل کرنے کے لیے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔
امریکہ اسرائیل سفارتی تنازع شدید

بستیوں میں توسیع کے منصوبے کا اعلان مجھے بتائے بغیر ہوا: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو
امریکی نائب صدر جو بائڈن کے دورہ اسرائیل کے دوران مشرقی یورشلم میں یہودی بستیوں کی توسیع کے منصوبے کے اعلان کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں آنے والی کشیدکی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔
صدر براک اوباما کے مشیر ایمونیل ایگزلروڈ نے کہا ہے کہ مشرقی یروشلم میں نئی یہودی بستیوں کی تجویز مشرقی وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے لیے تباہ کن ہے اور امریکی نائب صدر کی موجودگی میں اس منصوبے کا اعلان امریکی کی ہتک کے متراف ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز کابینہ کے اجلاس کے دوران امریکہ اسرائیل سفارتی تنازعے کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ذرائع ابلاغ میں کوریج ہوئی اس سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے تجویز کیا کہ معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا ’ہم جانتے ہیں کہ ایسی صورتحال سے ٹھنڈے اور سنجیدہ انداز میں کیسے نمٹا جاتا ہے۔
بستیوں میں توسیع کے منصوبے کا اعلان ایک جارحانہ فعل تھا لیکن کہ یہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک حادثہ تھا۔
نیتن یاہو
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اسرائیل کی سرزنش کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ امریکہ کی ہتک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اسرائیل یہودی بستیوں میں توسیع منصوبے کے تحت 1600 نئے گھر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ مشرقی یورشلم پر 1967 کے قبضے کے بعد وہاں ایک سو یہودی بستیوں میں پانچ لاکھ یہودیوں کو آباد کیا گیا ہے۔عالمی دنیا مشرقی یروشلم کو مقبوضہ علاقہ تصور کرتی ہے۔ فلسطینی اسے فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ بنانا چاہتے ہیں۔
اسرائیل کی جانب نئی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کے اعلان کے بعد فلسطین رہنماؤں نے بالواسطہ مذاکرت نہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی نائب صدر کی موجودگی میں یہودی بستیوں میں توسیع کے منصوبے کا اعلان ایک جارحانہ فعل تھا لیکن انہوں نے دعویٰ کیا کہ کہ یہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک حادثہ تھا۔
نیتن یاہو نے ایک کمیٹی قائم کر رکھی ہے جو یہ پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ایسے منصوبے جس کا وزیر اعظم کو بھی علم نہیں تھا اس کا اعلان امریکی نائب صدر کی اسرائیل میں موجودگی کےدوران کیبسے کیا گیا۔
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کے امریکی عہدیدار یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ یہودی بستیوں میں توسیع کا اعلان ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔
اسرائیل کے کچھ سیاسی مبصروں مطابق یہودی بستیوں میں توسیع کے منصوبے کے اعلان کا مقصد نیتن یاہو کی کمزور حکومت کو دوام دینے کے لیے کیا گیا۔ نیتن یاہو کی حکومت کٹر یہودی جماعتوں کے تعاون سے قائم ہے اور جس دن انہوں نے اپنی حمایت ختم کر دی تو ان کی حکومت کا قائم رہنا ممکن نہیں ہو گا۔
March 15,2010
|
|
|
نئی دہلی:
بھارت نے فنی خرابی کے باعث فضاء میں دشمن کے
میزائل کونشانہ بنانے والے انٹرسیپٹر میزائل
کا تجربہ موخر کردیا ہے ۔
بھارتی اخبارکے مطابق ریاست اڑیسا کے جزیرے وہیلر پر تجربے کی تمام تیاریاں مکمل تھیں کہ سسٹم میں خرابی کی وجہ سے تجربے کوملتوی کردیاگیا۔انتظامات کے تحت چندی پور میں موجو د موبائل لانچر سے پرتھوی میزائل کوفائرکیا جانا تھا جس کے کچھ دیر بعد جزیرے وہیلر سے انٹرسیپٹر میزائل اسے فضاء میں نشانہ بناتا۔ اخبار کے مطابق انٹرسیپٹر میزائل کاتجربہ جلد کیاجائے گاتاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ |
|
|
|
ٹوکیو: جاپان
کے دارلحکومت ٹوکیو کے ہونشو جزیرے میں زلزلے
سے عمارتیں لرز اٹھیں ۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے
کی شدت چھ اعشاریہ چھ ریکارڈ کی گئی ۔ فوری
طور پر زلزلے سے کسی نقصان کی اطلاعات موصول
نہیں ہوسکیں
|
|
|
|
ممبئی : ممبئی
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ دو دہشت گردوں کو
گرفتار کر کے ممبئی شہر کو بڑی تباہی سے بچا
لیا گیا ، انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے الزام
عائد کیا ہے کہ دونوں دہشت گردوں کا تعلق
پاکستان میں موجودایک دہشت گرد تنظیم سے ہے ۔
بھارٹی ٹی وی کے مطابق دو مشتبہ دہشت گردوں عبدالطیف اور ریاض علی کو ممبئی سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ آئل اینڈ نیچرل گیس کمپنی سمیت دیگر اداروں پر حملے کی منصوبہ بند ی کر رہے تھے ۔ انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے انسپکٹر نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گرد اسی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں جس نے گزشتہ سال ممبئی پر حملہ کیا تھا اور یہ پاکستان سے ہدایات لے رہے تھے ۔ افغانستان میں القاعدہ اور طالبان حملوں کی انٹیلی جنس معلومات کے بعد بھارتی فضائی کمپنی کے تمام طیاروں، ہوائی اڈوں اور شہروں میں سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی ہے۔ |
|
|
|
نیویارک:
امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے پاکستان اور
افغانستان رچرڈ ہالبروک نے کہا ہے کہ پاکستان
کی فوج نے سوات اور وزیرستان آپریشن کے دوران
اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ان کاکہناتھاکہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں کی وجہ سے القاعدہ اپنے اہم رہنماؤں سے محروم ہوتی جارہی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی نمائندہ خصوصی نے کہاکہ جب سے واشنگٹن میں اوباما انتظامیہ نےذمہ داریاں سنبھالی ہیں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں۔ |
کشتواڑ میںاہلکارکی خودکشی
جموں// کشتواڑ میں ایک فوجی اہلکار نے سروس رائفل سے اپنی زندگی کا خاتمہ کردیاہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ11آر آر سے تعلق رکھنے والے 26سالہ سپاہی گووردن رام ساکن جودھپور راجستھان نے مغل میدان کیمپ میں اپنی سروس رائفل کا استعمال کرکے خود پر گولی چلائی ۔ آواز سنتے ہی دیگر فوجی اہلکار جائے واقعہ کی طرف دوڑ پڑے جہاں مذکورہ اہلکار خون میں لت پت پڑا تھا۔ گووردن کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ اس سلسلہ میں پولیس نے کیس رجسٹر کرلیا ہے
|
|
|
حملے کی مذمت سرینگر//لبریشن فرنٹ کے ایک بیان کے مطابق ”تقریب کے اختتام کے بعد یاسین ملک کو ایک جلوس کی شکل میں رخصت کیا گیا۔ اسی جلوس میں چند غنڈے ، جن کا تعلق سید علی گیلانی کی جماعت سے ہے ،گھس گئے اور انہوں نے جلوس کو انتشارزدہ کرنےکی کوشش کی۔ ان غنڈوں کو مقامی لوگوں نے تخریب سے روکنے کی ہر ممکن سعی کی۔جب جلوس اختتام پذیر ہوا اور یاسین ملک و دیگر لوگ گاڑیوں میں سوار ہوکر سرینگر کی جانب روانہ ہوئے ،پچھلی گاڑیوں پر ان غنڈوں نے پتھروں اور چھریوں سے حملہ کردیا ۔ اچانک کئے گئے اس حملے کے نتیجے میں فرنٹ کے کئی کارکن اور بچے زخمی ہوگئے۔ ایک کارکن محمد دلاور کی گردن پر چھری سے وار کیا گیا ۔ اس بچے کی گردن پرڈیڑھ درجن ٹانکے لگے ہیں ۔ اس کے علاوہ فرنٹ کارکن بشیر احمد کشمیری،منظور احمد، عاشق احمد ،محمد عمر ،محمد عرفان وغیرہ کو بھی چوٹیں آئیں۔اس کے علاوہ کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا“۔بیان کے مطابق ”لبریشن فرنٹ گیلانی صاحب کے غنڈوں کی جانب سے کئے گئے اس حملے کو انتہائی شرمناک سمجھتی ہے، اُن بچوں اور لوگوں پر بلاجواز پیٹھ پیچھے حملہ کرنا جنہوں نے دن رات ایک کرکے متاثرین کےلئے امداد جمع کی تھی ،ہر لحاظ سے غیر اسلامی،غیر اخلاقی اور فسطائی حرکت ہے ،جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے“۔بیان میں کہاگیا ہے ”فرنٹ سوپراور چنکی پورہ کے عوام کا بھی شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے ان غنڈوں کا تعاقب کرکے انہیں مذید فساد پھیلانے سے باز رکھنے کی کاوشیں کیں،فرنٹ ایسے بزدلانہ اور بوکھلاہٹ سے بھر پور حملوں سے نہ ماضی میں مرعوب ہوئی ہے اور نہ ہی ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے فرنٹ کو مرعوب کیا جاسکتا ہے،فرنٹ جیالوں اور شہداءکا وہ کاروان ہے جن کی کاوشوں اور جدوجہد کے طفیل اسمبلیوں اور بھارتی ایوانوں میں سے لوگ تحریک آزادی کا حصہ بنے،ہمارے کاروان کو محمد مقبول بٹ ،اشفاق مجید وانی،شیخ عبدالحمیدوغیرہ جیسے قائدین کے مقدس لہو نے سینچا ہے۔ یہ کاروان کسی غنڈہ گرد یا کسی منافق کی شعبدہ بازیوں سے رکنے والا نہیں ہے،فرنٹ کسی مخصوص علاقے کی ترجمان نہیں ہے بلکہ جموں کشمیر کی مکمل آزادی و خود مختاری کےلئے برسر جہد ہے اور اس جدوجہد کو ہر حال میں جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہے“۔اس حملہ کے حوالے سے کشمیر عظمیٰ نے سید علی گیلانی کے ساتھ رابطہ قائم کر نے کی کوشش کی مگر ان کے ساتھ رابطہ قائم نہیں ہوسکا تاہم گیلانی کے ترجمان ایاز اکبرنے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا”ہم اس واقعہ کے حوالے سے تفصیلات جمع کر رہے ہیں اور اس کے بعد ہی ہم اپنا ردعمل ظاہر کریں گے“
|
|
|
|
میرواعظ
کی سعودی عرب سے اپیل
سرینگر//حرےت (ع) چیئرمین مےر واعظ نے سعودی عربےہ پر زور دےا کہ وہ ہندوپاک کو باہمی طور پر نزدےک لانے مےں اےک مثبت رول ادا کرے تاکہ ان کے درمےان بنےادی تنازعہ مسئلہ کشمےر کو حل کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔ مولوی عمر فاروق ،جو فرےضہ عمرہ ادا کرنے کے بعد گذشتہ روز جدہ پہنچ گئے، میں کشمےر اوور سےز کمےٹی ،جس مےں پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمےرکی جملہ سےاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہےں ،نے استقبالےہ دےا ۔میرواعظ نے تقرےر کرتے ہوئے ان تمام ممبران خاص طور پر پاکستانی شہرےوں کا شکرےہ ادا کےا جو مسئلہ کشمےر کے حل کے حوالے سے برابر اپنے بھرپور حماےت کرتے آئے ہےں۔ مےر واعظ نے کہا کہ سعودی عربےہ جو دےن اسلام کے تعلےمات کا مرکز ہے ،کا ملت اسلامےہ کو متحد کرنے مےں اےک بنےادی اور اہم رول بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عربےہ جس کے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ دوستانہ مراسم اور تعلقات ہےں، کو چاہئے کہ وہ ہندوپاک کو باہمی طور پر نزدےک لانے مےں اےک مثبت رول ادا کرے تاکہ ان کے درمےان جو بنےادی تنازعہ مسئلہ کشمےر ہے اس کو حل کی راہ ہموار ہو ،جس طرح وہ موجودہ مسلم امہ کو درپےش مسائل ،جن مےں خاص طور پر افغانستان اور فلسطےن کے تنازعات شامل ہےں، کے حل کے سلسلے مےں کوششےں کر رہا ہے ۔اس موقعے پر میرواعظ نے او آئی سی ،جس کا مرکزی دفتر جدہ مےں ہے ،پر زور دےا کہ وہ جلد سے جلد اےک خےرسگالی وفد کشمےر روانہ کرے تاکہ وہ ےہاں کے اصل حالات اور واقعات اور زمےنی صورتحال اور انسانی حقوق کی پامالےوں کا بچشم خود مشاہدہ کر سکے۔مےر واعظ نے ےہ بات زور دےکر کہی کہ جموں کشمےر کے عوام اپنے جائز جدوجہد آزادی سے ہر گز نہےں تھکے ہےں بلکہ انہوں نے اپنی جدوجہد آزادی کے تئےں بارہا اپنے عزائم کا اعادہ کرکے دکھاےا اور آج بھی دکھا رہے ہےں۔ |
|
|
|
کشمیر
ایڈمنسٹریٹو سروسز امتحانات آج سے جموں//سوموارسے منعقد ہونے والے سول سروسز کے تقابلی امتحانات میں 10454 امیدوار وں کی شرکت متوقع ہے ۔ وقاری عہدوں کےلئے ہونے والے ان امتحانات میں شرکت کے خواہشمند وں کی تعداد میں اضافے کا رحجان دیکھنے کو مل رہا ہے، گذشتہ برس ”مینز “میں شرکت کرنے والے امیدواروں کی تعداد محض 1300تھی جو اس بار 10ہزار کا ہندسہ پار کر گئی ہے ۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ امیدواروں کی تعداد میں ہونے والے اس اضافہ کی وجہ پبلک سروس کمیشن کی طرف سے ’شارٹ لسٹ‘ کرنے کا نیا طریقہ کار ہے جس کے مطابق بنیادی امتحانات میںایک مقررہ حد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے تمام امیدواروںکو مینز امتحانات میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس برس حکومت نے مختلف محکموں میں 398 اسامیوں کی نشاندہی کی ہے جہاں کشم® |














